رسائی کے لنکس

کشمیر میں حد بندی لائن پر تازہ جھڑپوں میں تین بچے ہلاک


فائل فوٹو

ضلع پونچھ کے ڈپٹی کمشنر طارق احمد زرگر نے بتایا کہ فائرنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہ علاقوں میں دگوار، کیرنی اور شاہپور شامل ہیں۔

یوسف جمیل

متنازع کشمیر کو تقسیم کرنے والی حد بندی لائن پر بھارت اور پاکستان کی افواج کے درمیان پیر کو فائرنگ کے تازہ تبادلے میں بھارتی کنٹرول کے کشمیری علاقے پونچھ میں تین بچے ہلاک اور ایک درجن کے قریب دوسرے شہری زخمی ہو گئے ہیں۔

زخمیوں میں کئی بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

بھارتی عہدیدار وں نے بتایا کہ پاکستانی فوج نے ہلکے اور درمیانی درجے کے ہتھیاروں اور مارٹر توپوں کا استعمال کرکے شہریوں کو ہلاک یا زخمی کرنے کے علاوہ کئی رہائشی مكانات کو شديد نقصان پہنچایا۔ فائرنگ میں کئی مویشی بھی مارے گئے۔

جموں میں بھارتی فوج کے ایک ترجمان نے نامہ نگاروں کو بتایا کی پاکستانی فوج نے پیر کو صبح ساڑھے 6 بجے دونوں ملکوں کے درمیان نومبر 2003 کے فائر بندی کے سمجھوتے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حد بندی لائن کے پونچھ علاقے میں بھارتی فوج کی اگلی چوکیوں اور شہری علاقوں کو بلا اشتعال ہدف بنانا شروع کردیا ۔ تاہم بھارتی فوج نے بھرپور جواب دیا۔

ترجمان کے بقول، بعد ازاں ہلکے اور درمیانی درجے کے ہتھیاروں اور مارٹر توپوں کا تبادلہ حد بندی لائن کے مزیر علاقوں تک پھیل گیا اور یہ سلسلہ کئی گھنٹے تک جاری رہا۔

ضلع پونچھ کے ڈپٹی کمشنر طارق احمد زرگر نے بتایا کہ فائرنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہ علاقوں میں دگوار، کیرنی اور شاہپور شامل ہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ فائرنگ سے ایک دس سالہ لڑکا اسرار احمد اور ایک پندرہ سالہ لڑکی شمیم اختر ہلاک اور ایک درجن افراد زخمی ہوئے جنہیں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے جموں کے میڈیکل کالج اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں ایک نوعمر لڑکی زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسی۔

نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کی وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے فائرنگ میں ہوئی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بد قسمتی کی بات ہے کہ یہ لڑکے اور لڑکیاں ایک ایسی عمر میں گولی باری کا نشانہ بن گئے ہیں جس میں انہیں سیاست کے نازک پہلوؤں کا بالکل ادراک نہیں تھا۔

پاکستان نے بھارت کی طرف سے لگائے گئے اس الزام کی سختی کے ساتھ ترديد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے فوجی ٹھکانوں اور شہری علاقوں کو بلا اشتعال نشانہ بنایا گیا ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر جب بھی فائرنگ اور جوابی فائرنگ ہوئی ہے، پہل بھارت کی جانب سے کی گئی جس کا پاکستانی فوج اور رينجرزنے فوری اور مناسب جواب دے دیا۔

پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کی بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ اور شیلنگ کے حالیہ واقعات میں حد بندی لائن اور ورکنگ باونڈری کے اس کے علاقوں میں متعدد شہری اور فوجی ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں جس کے بعد بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو اسلام آباد میں دفترِ خارجہ پر طلب کرکے احتجاج درج کیا گیا۔

اسی دوران بھارتی فوج نے حد بندی لائن کے اوڑی اور ٹنگڈار علاقوں میں تین عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG