رسائی کے لنکس

کشمیر کے ذکر پر امریکی ڈرامے کی ایک قسط بھارت میں غائب


ڈرامہ سیریل ’میڈم سیکرٹری‘ کا ایک منظر

امریکی چینل سی بی ایس کی ڈرامہ سیریل میڈم سیکرٹری بھارت میں ویڈیو اسٹریمنگ سروس ایمزون پرائم پیش کرتی ہے۔ بھارتی ناظرین اس کے پانچویں سیزن کی پہلی قسط نہیں دیکھ سکے کیونکہ اس میں کشمیر اور ہندو انتہاپسندی کا ذکر کیا گیا ہے۔ مبصرین نے اسے ایمزون پرائم کی خود ساختہ سینسرشپ قرار دیا ہے۔

میڈم سیکرٹری کی مرکزی کردار امریکہ کی وزیر خارجہ ہے جس کا نام الزبتھ میک کورڈ ہے۔ وہ ڈیموکریٹ صدر کونراڈ ڈیلٹن کی کابینہ کی رکن ہے۔

پانچویں سیزن کی پہلی قسط میں سیکرٹری میک کورڈ کوشش کرتی ہیں کہ پاکستان اور بھارت جوہری ہتھیاروں سے دست برداری کے تاریخی معاہدے پر راضی ہو جائیں۔ بظاہر اس قسط کو بھارت میں ہٹانے کا سبب یہ نہیں۔

بھارتی جریدے فرسٹ پوسٹ کے خیال میں مسئلہ وہاں ہوتا ہے جب اس قسط میں بار بار ہندو قوم پرستی اور انتہاپسندی کا ذکر آتا ہے اور اس طرف اشارہ کیا جاتا ہے کہ بھارتی حکومت مسلمان اقلیتوں پر اکثریت کے تشدد کو روکنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کرتی۔

ایک مکالمے میں ’’بھارتی مقبوصہ کشمیر‘‘ کہا جاتا ہے جو بھارت کو ناراض کرنے کے لیے کافی ہے۔ بھارت جموں و کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے اور مقبوضہ کا لفظ برداشت نہیں کرتا۔

اس قسط کے شروع ہی میں امریکی وزیر خارجہ کو انٹیلی جینس بریفنگ دی جاتی ہے کہ بھارتی حکومت نے مسلمانوں پر حملے کرنے والے ہندو انتہاپسندوں کے خلاف سخت اقدامات نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

قسط میں آگے چل کر امریکی وزیر خارجہ کے شوہر پروفیسر ہنری میک کورڈ کی ایک بھارتی پروفیسر ارنے وجے سے اسی بارے میں بحث ہوتی ہے۔ پروفیسر وجے کا موقف ہوتا ہے کہ اکثریتی آبادی کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ پروفیسر میک کورڈ بتاتے ہیں کہ کوئی جمہوریت اقلیت کے حقوق کا تحفظ کیے بغیر نہیں چل سکتی۔

اس قسط میں تین سابق وزرائے خارجہ میڈیلین البرائٹ، کولن پاول اور ہلیری کلنٹن بھی جلوہ گر ہوئے ہیں جس میں وہ قوم پرستی کے مسئلے پر اظہار خیال کرتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG