رسائی کے لنکس

logo-print

ترکی نے امریکی صدر کی دھمکی کو مسترد کر دیا


صدر ٹرمپ اور ترک صدر رجب طیب اردوان نیٹو کانفرنس کے موقع پر گفتگو کر رہے ہیں۔ 11 جولائی 2018

ترک صدر رجب طیب اردوان نے امریکی صدر کی دھمکی کے بعد کہا ہے کہ ان کا ملک اپنے موقف پر کھڑا رہے گا۔

صدر ٹرمپ نے دو روز پہلے اپنے ایک ٹویٹ پیغام میں دھمکی دی تھی کہ اگر ترکی نےامریکی پادری کو رہا نہ کیا تو اسے سخت ترین پابندیوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

ترک میڈیا میں صدر ادروان کےحوالے سے کہا ہے کہ ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے پابندیاں لگائیں توہم اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

انہوں نے کہاکہ امریکہ کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ اپنے ایک پر خلوص دوست سے محروم ہو جائے گا۔

ترکی میں مقیم امریکی پادری پر الزام ہے کہ اس کے رابطے ایک ایسے گروپ سے تھے جو 2016 کی ناکام فوجی بغاوت میں ملوث تھا۔

پادری انیڈریو برونسن اس الزام سے انکار کرتا ہے۔

پاسٹر اینڈیو برونسن کو 21 ماہ کی قید کے بعد اب اپنے گھر پر نظر بند کر دیا گیا ہے۔وہ ترکی میں 20 سال سے زیادہ عرصے سے کام کر رہا ہے۔الزامات ثابت ہونے پر اسے 35 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

دونوں ملکوں کے سفارتی عہدے دار اس نتازع کو حل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ وزیرخارجہ مائیکل پومپیو نے اپنے ترک ہم منصب مولود جاویش اوغلو سے اس معاملے پر بات کی ہے۔

ترک میڈیا ٹی آر ٹی اور دوسرے میڈیا چینلز کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ترکی کے درمیان دوستی اب تنازع کی جانب بڑھ رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG