رسائی کے لنکس

logo-print

آبنائے ہرمز میں ایرانی بحری مشقوں کا مقصد امریکہ کو پیغام دینا تھا، جنرل ووٹل


آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی جنگی جہاز گشت کر رہا ہے۔ فائل فوٹو

مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں کے نگران جنرل نے بدھ کے روز کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی بحریہ کی مشقوں کا مقصد تہران پر پابندیوں کے دوبارہ اطلاق سے پہلے واشنگٹن کو ایک پیغام بھیجنا تھا۔

ایران نے پچھلے ہفتے آبنائے ہرمز میں درجنوں چھوٹی حملہ آور کشتیاں بھیجی تھیں۔ یہ سمندری گزرگاہ تیل کی ترسيل کا اہم ذریعہ ہے جس کے متعلق ایران کے صدر حسن روحانی نے دھمکی دی تھی وہ اسے بند کر دیں گے۔

امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل نے پنٹاگان میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ یہ امریکہ پر نمایاں طور پر واضح ہے کہ جب ہم پابندیاں نافذ کرنے کی تاریخ کے قریب پہنچے تو انہوں نے ان فوجی مشقوں کو ہمیں یہ پیغام دینے کے لیے استعمال کیا کہ ان کے پاس کچھ فوجی صلاحیت موجود ہے۔

ایران کے پاس جو فوجی صلاحیت موجود ہے ان میں سمندر میں استعمال کی جانے والی بارودی سرنگیں، دھماکہ خیز کشتیاں، ساحلی دفاعی میزائل اور ریڈار شامل ہیں۔

جنرل ووٹل نے کہا کہ انہوں نے قاسم سلیمانی کو ان فوجی مشقوں کی قیادت کرتے ہوئے دیکھا ہے، جو ایران کے پاسداران انقلاب کی قدس فورس کی غیر ملکی کارروائیوں کے سربراہ ہیں۔

جنرل ووٹل نے صحافی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ شخص ہے جو عدم استحكام کی بہت سی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔

امریکہ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے تہران کے ساتھ 2015 کے کثیر ملکی جوہری معاہدے سے نکلنے کے بعد منگل کے روز ایران پر دوبارہ پابندیاں لگا دی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG