رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کا کینیا کے حریف گروپس میں مصالحت کا خیر مقدم


امریکی وزیر خارجہ کینیا کے دورے کے دوران صدرکیناٹا کے ساتھ۔ 9 مارچ 2018

امریکہ کے اعلیٰ ترین سفارت کار نے جمہوریت کے لیے ایک غیر جانبدار میڈیا کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ حکومت کو میڈیا کو دبانا نہیں چاہیے۔

جمعے کے روز امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا کہ کینیا کے صدربوہورو کیناٹا اور حزب مخالف کے لیڈر رائلا اوڈنگا کے درمیان سیاسی مصالحت ایک بہت زیادہ مثبت قدم ہے اور انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ملک میں سیاسی سرگرمیوں اور جمہوریت کی حمایت کرتا ہے۔

کیناٹا اور اوڈینگا نے گزشتہ موسم گرما کے صدارتی انتخاب کے بعد سے پہلی بار اس عمل کے لیے ملاقات کی جسے انہوں نے قومی وحدت کے لیے ایک مشترکہ کوشش قرار دیا۔

مسٹر ٹلرسن نے نیروبی میں کینیا کی وزیر خارجہ مونیکا جمعہ کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں اس اعلان کا خیرمقدم کیا۔

جمعے کے روز وزیر خارجہ نے کہا کہ ان دونوں شخصیتوں نے اس معاہدے پر اتفاق کر کے جس پر آج دستخط ہوئے عظیم قیادت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس عمل کی حمایت کا منتظر ہے جس کا ملک کو اکٹھا کرنے اور متعدد قومی اختلافات سے نمٹنے کے لیے آج صبح اعلان کیا گیا ہے۔

امریکہ کے اعلیٰ ترین سفارت کار نے جمہوریت کے لیے ایک غیر جانبدار میڈیا کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ حکومت کو میڈیا کو دبانا نہیں چاہیے۔

وزیر خارجہ ٹلرسن نے کہا کہ امریکہ افریقی ملکوں کو انتظام حکومت بہتر بنانے اور پائیدار سیکیورٹی اور ترقیات سے متعلق اہداف پورے کرنے کے لیے انہیں مراعات فراہم کر کے ان کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہے ۔ وہ اس ہفتے کے أوائل میں شروع ہونے والے افریقہ کے پانچ ملکوں کے دورے پر ہیں۔

وہ جمعے کو جبوتی سے نیروبی پہنچے تھے ۔ ہفتے کے روز ان کے ایک ترجمان نے کہا کہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور انہوں نے ایک دن کے لیے اپنی مصروفیات منسوخ کر دی ہیں ۔ اس نے کہا کہ کچھ مجوزہ تقریبات ان کے بغیر انجام پائیں گی جب کہ دوسری تقریبات کو از سر نو شیڈول کیا جا سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG