رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ ترکی تنازع بڑھنے سے عالمی اقتصادی نظام پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ


ترکی کے صدر رجب طیب اردوان انقرہ میں ترک سفارت کاروں کے اجلاس میں تقریر کر رہے ہیں۔ 13 اگست 2018

اب جب کہ انقرہ کے حکام ایک اقتصادی منصوبے پر عمل در آمد کے لیے تیار ہیں، ترکی کی کرنسی لیرا اپنی کم ترین ریکارڈ سطح پر پہنچنے کے بعد پیر کے روز ڈالر کے مقابلے میں نسبتاً مضبو ط دکھائی دی۔

اس سال امریکہ کے ساتھ کشیدگیوں اور ملکی قرضے کی بلند سطح کے باعث لیرا کی قدر میں چالیس فیصد سے زیادہ کمی ہوئی تھی۔

ترکی افراط زر کی بڑھتی ہوئی شرح سے نمٹنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔

صدر رجب طیب اردوان، ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اسٹیل اور المونیم پر محصولات کا حوالہ دیتے ہوئے، جن کے بارے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ اس میں 20 فیصد تک اضافہ کر دیں گے، نیٹو کے اتحادی واشنگٹن اور دوسرے ملکوں پر اپنے ملک کے خلاف اقتصادی جنگ لڑنے کا الزام لگا چکے ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان امریکی پروٹسٹنٹ پادری اینڈریو بروسن کی قید، امریکہ کی جانب سے ایک ترک بینکار کی سزا، جلا وطن مسلم عالم دین فتح اللہ گولن کی ملک بدری کی درخواست اور روس کے ساتھ ترکی کے قریبی دفاعی رابطوں پر کشیدگی جاری ہے۔

مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے اسکالر زبیر اقبال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترک معیشت کئی ماہ سے مشکلات کا شکار ہے۔ اور یہ کہ اگرچہ مسٹر اردوان نئے دوست اور اتحادی تلاش کرنے کی دھمکی دیتے ہیں تاہم یہ تنازع جتنا طول کھینچے گا، اور جتنا زیادہ بڑھے گا، ان سے عالمی اقتصادی نظام کے لیے اتنا ہی بڑا خطرہ لاحق ہو گا۔

انہوں نے اس بارے میں مزید کہا کہ اقتصادی تعزیرات سیاسی مسائل کا حل نہیں ہی ۔ جوں ہی آپ انتقامي اقتصادی کارروائیاں شروع کریں گے تو آپ سیاسی اور سفارتی مسائل پر اپنا کنٹرول کھو دیں گے اور ایسے مسائل پیدا کر دیں گے جنہیں آپ حل نہیں کر سکیں گے اور اس طرح عالمی معیشت خطرے میں پڑ جائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG