رسائی کے لنکس

logo-print

داعش کی مدد کرنے والی امریکی خاتون کو ساڑھے چھ سال قید کی سزا


شمالی شام میں کرد انتظامیہ نے داعش سے منسلک خاندانوں کو رہا کر دیا ہے۔ فائل فوٹو

شام سے واپس امریکہ لائی جانے والی داعش کی حامی ایک خاتون آئندہ ساڑھے چھ برس جیل میں گزارے گی، جس کے بعد اسے تین برس کیلئے زیرنگرانی رہائی کے تحت رکھا جائے گا۔

پیر کے روز، ایک امریکی عدالت نےسمانتھا ال حسنی کو یہ سزا سنائی۔ سمانتھا اپنے بچوں سمیت شام چلی گئی تھی جہاں اس کا شوہر اور دیور، داعش کے ساتھ دہشت گرد کاروائیوں میں شریک تھے۔

سمانتھا کا تعلق ریاست انڈیانا سے ہے۔ اسے جولائی 2018 میں، امریکی سرپرستی میں کام کرنے والی سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے گرفتار کیا تھا اور پھر اس کے چار بچوں سمیت اسے واپس امریکہ بھیج دیا تھا۔

انہوں نے گزشتہ برس دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزامات کا اعتراف کیا تھا۔

عدالتی فیصلے کے بعد، امریکی ادارے ایف بی آئی کے سپیشل ایجنٹ اِن چارج، پال کِی نن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ آج کا فیصلہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ایف بی آئی اپنے ملک سے انحراف کرتے ہوئے ایک متشد دہشت گرد تنظیم کی حمایت کرنے والوں کو، جیسا کہ سمانتھا ال حسنی نے کیا، جوابدہ بنانے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔

یزیدی خواتین داعش کی قید سے رہائی کے بعد اپنے خاندان سے مل رہی ہیں۔ فائل فوٹو
یزیدی خواتین داعش کی قید سے رہائی کے بعد اپنے خاندان سے مل رہی ہیں۔ فائل فوٹو

کی نن کا کہنا تھا کہ سمانتھا کو پوری طرح سے معلوم تھا کہ وہ کیا کر رہی ہے اور کیوں کر رہی ہے۔ وہ اس گھناؤنی سرگرمی میں پوری طرح سےسرگرم تھی اور اب اس کا نتیجہ بھگت رہی ہے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق، سمانتھا ال حسنی نے داعش میں شامل ہونے میں اپنے شوہر اور اس کے بھائی کی مدد کی۔ اس نے 30 ہزار ڈالر نقد رقم اور سونا ہانگ کانگ سمگل کیا، جس سے اس نے رائفل پر لگائی جانے والی خصوصی دوربین اور دیگرحربی اشیا خریدیں۔

ہانگ کانگ سے یہ خاندان ترکی کے شہر، استنبول گیا، اور پھر سن 2015 میں وہ شام میں داعش کے زیر قبضہ علاقے پہنچ گئے۔

اپنے خلاف لگائے گئے الزام کو قبول کرنے سے پہلے، سمانتھا کا اصرار تھا کہ وہ چھٹیاں منانے گئی تھی جہاں اس کا شوہر چالاکی سے انہیں شام لے گیا۔

داعش کے ساتھ گزارے وقت کے دوران، اس کے سب سے بڑے بیٹے میتھیو کو دہشت گرد تنظیم کی پروپیگینڈا ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے، جہاں وہ مغرب پر حملے کی دھمکی دے رہا ہے۔

سمانتھا کا شوہر موسیٰ، اطلاعات کے مطابق داعش کیلئے لڑتے ہوئے مارا گیا تھا۔

شام میں قیام کے دوران ،اس کے دو مزید بچے پیدا ہوئے، اور پھر وہ چاروں بچوں کو لے کر، دو یزیدی کنیزوں کے ساتھ رقہ فرار ہو گئی اور پھر وہ سب ایک کرد حراستی کیمپ میں پہنچ گئے۔

سمانتھا کی امریکہ میں واپسی کے بعد، اس کے چاروں بچوں کو ریاست انڈیانا کے ڈیپارٹمنٹ آف چائلڈ سروسز کی نگرانی میں دے دیا گیا تھا۔

گزشتہ ماہ امریکی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ کُل 27 امریکی شہریوں نے داعش میں شمولیت کیلئے عراق یا شام کا سفر کیا تھا، اب وہ سب امریکہ واپس پہنچ چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG