رسائی کے لنکس

logo-print

داعش کے ہمراہ لڑنے والے قیدی کو وکیل کی سہولت دی جائے: جج


شہری حقوق کی امریکی تنظیم (اے سی ایل یو) نے اُن کی حراست کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے استدعا کی ہے کہ وہ اُن کو رسائی اور قانونی مشاورت فراہم کرنا چاہتی ہے

امریکہ کے ایک وفاقی جج نے کہا ہے کہ امریکی فوج کو چاہیئے کہ وہ ایک شہری کو قانونی مشاورت فراہم کرے جنھیں کچھ ماہ قبل شام کے میدان جنگ سے پکڑا گیا تھا، اور جن پر داعش کے شدت پسندوں کے ہمراہ لڑنے کا الزام ہے۔

شناخت ظاہر نہ کیے جانے والے اِن امریکی نے، جن پر الزام عائد نہیں کیا گیا، 12 ستمبر کو شام میں امریکہ کے حامی جنگجوئوں کے سامنے ہتھیار ڈالے؛ جنھیں عراق میں قید رکھا گیا ہے، جن کو غیرقانونی لڑاکا دشمن قرار دیا جارہا ہے۔

شہری حقوق کی امریکی تنظیم (اے سی ایل یو) نے اُن کی حراست کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے استدعا کی ہے کہ وہ اُن کو رسائی اور قانونی مشاورت فراہم کرنا چاہتی ہے۔

گذشتہ ماہ، امریکی حکومت نے تسلیم کیا کہ ایک امریکی شہری کو حراست میں لیا گیا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ کچھ ماہ سے داعش کے لیے لڑتا رہا ہے، جب کہ وکیل سے ملنے کی اپنی التجا پوری کرنے پر رضامند نہیں۔ عدالت کے حکم نامے کے جواب میں، حکومت نے بتایا ہے کہ اس شخص کو شام کے میدانِ جنگ سے پکڑا گیا تھا جس نے عندیہ دیا تھا کہ وہ ایف بی آئی کے ایجنٹوں سے بات کرنے کا خواستگار ہے۔ لیکن، چاہتا ہے کہ ''اِس کے لیے اُن کےساتھ ایک وکیل موجود ہونا ضروری ہے''۔

اپنے فیصلے میں، امریکی ضلعی جج، تانیا چٹکان نے محکمہ دفاع کا موقف مسترد کیا کہ معاملہ یہیں رفع کردیا جائے اور فوج کو حکم دیا کہ 'اے سی ایل یو' کو ''قیدی تک فوری اور بغیر نگرانی کے رسائی دی جائے''، تاکہ وہ خود فیصلہ کرسکے آیا 'اے سی ایل یو' اُن کی نمائندگی کر سکتا ہے۔

'اے سی ایل یو' کے سینئر اسٹاف اٹارنی، جوناتھن حفیظ نے کہا ہے کہ ''یہ ایک تاریخ ساز حکم ہے جس سے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایک امریکی شہری کی رسائی میں رکاوٹ ڈالے جانے اور اُن کی انتظامی قید کو چیلنج کیے جانے کے احکامات کو مسترد کیا گیا ہے''۔

بقول اُن کے، ''آئین اور امریکی قانون کی حکمرانی کے تحت شہریوں کو حق حاصل ہے کہ اُن کو وکیل اور عدالت تک لازمی رسائی میسر ہو''۔

اس سے قبل، محکمہ انصاف کی 'سول ڈویژن' سے تعلق رکھنے والی ایک اٹارنی، کیتھرین وایر نے عدالت کو بتایا کہ امریکی فوج اس معاملے میں دیانت داری سے کام کر رہی ہے۔ لیکن، ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا گیا آیا اس قسم کے قیدی کے ساتھ کیا معاملہ برتا جائے۔ وایر نے استفسار کیا کہ انتظامی شعبے کو درکار وقت دیا جائے، تاکہ قانون کے مطابق اس بات کا تعین ہو سکے کہ زیر حراست لیے گئے ایسے فرد کی قانونی حیثیت کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG