رسائی کے لنکس

logo-print

سائنس دانوں نے رات کے وقت بجلی بنانے والے ’اینٹی سولر‘ پینل بنا لیے


فائل فوٹو

ایک نئی تحقیق کے بعد سائنس دانوں نے ایسے 'اینٹی سولر' پینل بنا لیے ہیں جو رات کے وقت زمین کی گرمی سے بجلی بنائیں گے اور صاف توانائی کا ایک ذریعہ بنیں گے۔

سولر پینل سورج کی روشنی سے ٹھنڈے ہوتے ہیں اور اس سے بجلی بناتے ہیں جب کہ 'اینٹی سولر' پینل رات کے وقت زمین سے نکلنے والی ریڈی ایشن سے ٹھنڈے ہوتے ہیں اور اس سے بجلی بناتے ہیں۔

اس تحقیق کے مطابق خصوصی طور پر ٹھنڈے کیے گئے پینلز اپنے ارد گرد معمولی سی بھی توانائی کو کھینچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جسے وہ بجلی میں بدل دیتے ہیں۔

سولر پینلز سے بننے والی بجلی رات کو استعمال کرنے کے لیے اسٹوریج پر بہت سا خرچہ آتا ہے۔ اس کے مقابلے میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ رات کو زمین کی ریڈی ایشن یعنی تابکاری سے توانائی حاصل کر کے اخراجات کم کیے جا سکتے ہیں۔

یہ ٹیکنالوجی ایسے ممالک میں بھی بہت کارآمد ہو سکتی ہے جہاں دن کے اکثر حصے میں سورج کی روشنی نہیں رہتی یا قطب شمالی کے قریب واقع ممالک جہاں آدھا سال رات رہتی ہے۔

اس تحقیق میں شامل ایک سائنس دان لنگلنگ فئیر کا کہنا ہے کہ وہ اس نظام کی مدد سے چلتی ہوئی کاروں سے ضائع ہونے والی توانائی کو بھی بچا کر اس سے بجلی بنا سکتے ہیں۔

سولر ٹیوب ویل سے کسان کی بچت لیکن پانی کا ضیاع
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:02 0:00

محققین کا کہنا ہے کہ اینٹی سولر پینل عموماً سورج سے بجلی بنانے والے سولر پینلز کی ایک چوتھائی بجلی بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ نئی تحقیق پیر کو 'آپٹک ایکسپریس' نامی سائنسی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

اسٹین فورڈ یونیورسٹی اور ٹیکنو اسرائیل انسٹی ٹیوٹ کے محققین کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ نتائج تھرمو الیکٹرک جنریٹر میں بہتری پیدا کر کے حاصل کیے ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اب یہ پینل فی مربع میٹر 2.2 واٹ توانائی پیدا کرتے ہیں۔ یہ پرانے پینلز کے مقابلے میں 120 فی صد اضافی بجلی ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ابھی تجربات جاری ہیں جب کہ اس ٹیکنالوجی حصول میں مارکیٹ میں موجود پرزے اور متعلقہ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔

سائنس دان اس نئی تحقیق کو صاف توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں معاون قرار دے رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG