رسائی کے لنکس

logo-print

باقی ماندہ طالبان قیدیوں کی رہائی شروع؛ قیدی دنیا کے لیے خطرہ ہیں: اشرف غنی


افغان صدر کا کہنا ہے کہ طالبان کے باقی ماندہ قیدی سنگین جرائم میں ملوث رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

افغان حکام نے طالبان کے باقی ماندہ 400 قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع کر دیا ہے لیکن صدر اشرف غنی نے خبردار کیا ہے کہ رہا ہونے والے یہ قیدی دنیا کے لیے خطرہ ہیں۔

افغانستان کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جاوید فیصل نے کہا ہے کہ طالبان کے مزید 80 قیدیوں کو جمعرات کو رہا کر دیا گیا ہے۔

جاوید فیصل نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ قیدیوں کی رہائی طالبان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات اور ملک میں پائیدار جنگ بندی کے حصول کی ایک کڑی ہے۔

طالبان قیدیوں کی رہائی کا عمل مکمل ہونے کے بعد افغان حکومت اور طالبان کے درمیان آئندہ چند روز میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بین الافغان مذاکرات شروع ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ قیدیوں کی رہائی امریکہ اور طالبان کے درمیان فروری میں طے پانے والے معاہدے کا حصہ ہے۔

اس معاہدے کے تحت افغان حکومت کو طالبان کے پانچ ہزار قیدی رہا کرنے تھے جس میں سے 4600 قیدی پہلے ہی رہا کیے جا چکے ہیں۔ تاہم صدر اشرف غنی نے 400 قیدیوں کو رہا کرنے سے معذرت کی تھی۔

بعدازاں لویہ جرگے کی سفارش کے بعد صدر غنی نے پیر کو باقی ماندہ قیدیوں کی رہائی کے فرمان پر بھی دستخط کر دیے تھے۔

ایک امریکی تھنک ٹینک کے تحت جمعرات کو منعقدہ ایک ویڈیو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر اشرف غنی نے کہا کہ طالبان کے باقی ماندہ قیدی بڑے جرائم میں ملوث رہے ہیں اور وہ نہ صرف افغانستان اور امریکہ بلکہ دنیا کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امن کی خواہش پر اتفاق ضرور ہوا ہے لیکن اس کی یہ قیمت نہیں ہونی چاہیے تھی۔

دوسری جانب بین الافغان مذاکرات سے قبل افغان حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کا ابتدائی ایجنڈا تشدد کا خاتمہ ہو گا۔ تاہم طالبان کا کہنا ہے کہ کسی معاہدے پر پہنچنے تک تشدد میں کمی نہیں آ سکتی۔

طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے منگل کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کے دوران کہا تھا کہ افغان حکومت کے ساتھ بین الافغان مذاکرات امریکہ سے ہونے والے معاہدے کے تحت آگے بڑھیں گے اور اس معاہدے کی رو سے جنگ بندی ایک الگ موضوع ہے جس پر مذاکرات کے دوران بحث کی جائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG