رسائی کے لنکس

logo-print

آسیہ بی بی کو خاندان سمیت جرمنی کی شہریت دینے کی اپیل


آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔

فرینکفرٹ میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے وکیل سیف الملوک کا کہنا تھا کہ آسیہ بی بی اب آزاد ہیں لیکن ان کے خاندان کو بیرونِ ملک جانے کے لیے پاسپورٹ کی ضرورت ہے۔

توہینِ مذہب کے مقدمے میں پاکستان کی سپریم کورٹ سے بری ہونے والی پاکستانی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک نے کہا ہے کہ ان سے یہ سوال ہو رہے تھے کہ آسیہ بی بی کب یورپ آئیں گی جس کے جواب میں انہوں نے جرمنی سے آسیہ بی بی کو شہریت دینے کی بات کی تھی۔

خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق منگل کو فرینکفرٹ میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے سیف الملوک نے کہا تھا کہ آسیہ بی بی اب آزاد ہیں لیکن ان کے خاندان کو بیرونِ ملک جانے کے لیے پاسپورٹ کی ضرورت ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا، "اگر جرمن چانسلر اپنے سفیر کو انہیں (آسیہ کو)، ان کے شوہر اور ان کی دو بیٹیوں کو جرمن شہریت دے کر انہیں پاسپورٹ جاری کرنے کی ہدایت کرتی ہیں تو پھر کوئی انہیں ایک سیکنڈ کے لیے بھی نہیں روک سکے گا کیونکہ وہ پھر پاکستانی شہری نہیں ہوں گے۔"

سیف الملوک کے بقول، "ابھی تک کوئی بھی حکومت اس معاملے میں اس طرح کھل کر سامنے نہیں آ سکی ہے۔"

رائٹرز کے مطابق سیف الملوک نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض مذہبی گروہوں کے دباؤ کی وجہ سے پاکستان حکومت کے لیے آسیہ بی بی کی بیرونِ ملک روانگی کا انتظام کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

بعد ازاں اپنی پریس کانفرنس کے متعلق وائس آف امریکہ کے ساتھ جرمنی سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے سیف الملوک کا کہنا تھا کہ ان سے جرمنی میں یہ پوچھا جا رہا تھا کہ آسیہ کیوں نہیں آ رہیں، جس کے جواب میں انہوں نے پاسپورٹ دینے کی بات کی تھی۔

"سب لو گ یہ پوچھ رہے تھے کی آسیہ بی بی کیوں نہیں آرہی تو اس کے جواب میں میں نے کہا کہ اگر آپ اس حد تک اس معاملے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ اپنی حکومت کو کہیں کہ وہ انہیں جرمنی کی شہریت دے دیں، اور اسلام آباد میں جرمنی کا سفیر انہیں جرمنی کا پاسپورٹ جاری کردے۔"

سیف الملوک کے بقول اگر آسیہ کو غیر ملکی پاسپورٹ حاصل ہو جاتا ہے تو پھر وہ ایک غیر ملکی شہری بن جائیں گی اور انہیں پاکستان چھوڑے میں کوئی دقت نہیں ہو گی۔

لیکن ساتھ ہی انہوں نے وضاحت کی کہ وہ نہیں سمجھتے کہ آسیہ بی بی کو فی الوقت ملک چھوڑنے کے حوالے سے کوئی مسئلہ درپیش ہے۔

کینیڈا اور بعض یورپی ملکوں کی طرف سے سیاسی پناہ کی پیش کش کے باوجود آسیہ بی بی کا خاندان تاحال پاکستان میں ہی کسی محفوظ مقام پر مقیم ہے۔

دوسری طرف آسیہ بی بی کے خاندان کے قریبی ذرائع نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ انہوں نے سیف الملوک سے ایسی کوئی اپیل کرنے کے لیے نہیں کہا۔

اس بارے میں وی او اے سے گفتگو میں سیف الملوک کا کہنا تھا کہ انہوں نے جرمن حکومت سے یہ اپیل کرنے سے قبل آسیہ بی بی کے خاندان سے فون پر رضامندی تو نہیں لی تھی لیکن ان کے بقول جب تک وہ آسیہ بی بی کے ساتھ رابطے میں تھے تو انہوں نے اس بات کی اجازت دی تھی کہ وہ کسی بھی ملک کے ویزے یا شہریت کے حصول کے لیے ان کی طرف سے بات کر سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ آسیہ بی بی کو توہینِ مذہب کے ایک مقدمے میں دی گئی سزائے موت کو منسوخ کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ میں ان کی اپیل کے حق میں وکیل سیف الملوک نے دلائل دیے تھے جو عدالت کے فیصلے کے بعد خود بھی جان کو لاحق خطرات کا کہہ کر پاکستان چھوڑ گئے تھے۔

وائس آف امریکہ کے اس سوال پر کہ کیا وہ آسیہ بی بی کے مقدمے کی نظرِ ثانی کی اپیل کی سماعت کے لیے ان کی وکالت کرنے پاکستان واپس آئیں گے؟ سیف الملوک کا کہنا تھا کہ وہ ضرور ایسا کریں گے اور جب بھی اس اپیل کی سماعت ہو گی تو وہ آسیہ بی بی کی طرف سے عدالت میں پیش ہوں گے۔

انہوں نے اپنا یہ موقف دہرایا کہ انہیں اپنی زندگی کو لاحق خطرات کی وجہ سے مجبوراً بیرونِ ملک منتقل ہونا پڑا۔

اس سوال پر کہ کیا وہ کسی ملک میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کے متمنی ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ جب انہیں کسی ملک کی طرف سے سیاسی پناہ کی پیشکش ہو گی تو پھر وہ اس بارے میں سوچیں گے۔

اس سے قبل اپنی پریس کانفرنس میں سیف الملوک نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ آسیہ بی بی کے شوہر اس بات کے خواہش مند ہیں کہ ان کے ایک دوست بھی اپنی اہلیہ اور پانچ بیٹیوں سمیت ان کے ساتھ بیرونِ ملک جائیں جب کہ آسیہ کے شوہر کی دوسری اہلیہ اور ان کی تین بیٹیاں پاکستان چھوڑنا نہیں چاہتی ہیں۔

سیف الملوک کے بقول آسیہ بی بی کسی مخصوص ملک میں سیاسی پناہ کے حصول کی خواہش مند نہیں اور اس معاملے میں وہ کسی ملک کو ترجیح نہیں دے رہیں۔

جرمن حکام کا کہنا ہے کہ آسیہ بی بی کو پناہ دینے کے معاملے پر وہ اور بعض دیگر ممالک آسیہ بی بی کے خاندان اور پاکستان کی حکومت سے بات چیت کر رہے ہیں۔

جرمن حکومت نے آسیہ بی بی کو پاسپورٹ جاری کرنے کی اپیل پر تاحال کسی ردِ عمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG