رسائی کے لنکس

logo-print

متنازع نیب قوانین میں تبدیلی کی ضرورت ہے، آصف علی زرداری


آصف علی زرداری۔ فائل فوٹو

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ وہ اپنے اوپر قائم مقدمات میں ڈیل نہیں چاہتے بلکہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے سامنے پیش ہو کر تحقیقات کا سامنا کریں گے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے آصف زرداری نے نیب کی جانب سے گرفتاریوں اور نیب قوانین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ متنازعہ نیب قوانین میں تبدیلی ہونی چاہئے۔ ان کے مطابق جب تک تحقیقات مکمل نہ ہو جائیں کسی کو گرفتار نہیں کیا جانا چاہئے۔

آصف زرداری نے کہا کہ چیف جسٹس نے اعلیٰ عدلیہ کے از خود نوٹس کے اختیار پر نظرثانی کی بات کی ہے اور انہیں امید ہے کہ اس معاملے پر پیش رفت ہو گی۔

یاد رہے کہ پیپلز پارٹی ملک کی اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے از خود نوٹس کے اختیار کے غیر ضروری استعمال کی مخالف ہے اور ان کے مطابق از خود نوٹس میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے، اور نہ ہی فیصلے پر نظرثانی کی جا سکتی ہے۔

تاہم پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے مبینہ طور پر اربوں روپے بیرون ممالک بھیجنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر اپنی دائر کردہ نظر ثانی کی اپیل مسترد ہونے پر کہا کہ ان کی جماعت نے ہمیشہ عدلیہ کے فیصلوں کو تسیم کیا ہے کیونکہ ہم اداروں کا احترام کرتے ہیں۔

آصف زرداری نے کہا کہ ''ہم نیب کے سامنے جائیں گے، نیب انکوائری کا سامنا کریں گے۔ جیل جانا پڑا تو بھی مسئلہ نہیں، وہ میرا دوسرا گھر ہے''۔

سابق صدر نے کسی کی نشاندہی کیے بغیر کہا کہ بلاول بھٹو، بے نظیر بھٹو کا بیٹا ہے تم اس کو کیا ڈراؤ گے۔

گذشتہ روز سپریم کورٹ نے سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی بہن فریال تالپور، پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو، وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ، حکومت سندھ و دیگر کی جانب سے جعلی بینک اکاؤنٹس مقدمہ میں دائر کی گئیں نظرثانی کی 9 اپیلیں مسترد کر دی تھیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اگر بیرون ممالک بھیجی گئی رقم سابق صدر آصف علی زرداری یا ان کی بہن کی نہیں ہے تو اُنھیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، تاہم عدالت اس معاملے کی تحققیات کے لیے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو نامزد افراد کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا حکم نہیں دے سکتی۔

پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے آئین کے آرٹیکل ایک 184 کی شق 3 کی تشریح کے لیے دائر نظرثانی درخواست میں موقف اپنایا تھا کہ از خود نوٹس لینے کے تحت اختیارات کے تعین کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا جائے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے 29 جعلی اکاؤنٹس کے معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا اور آصف علی زرداری اور فریال تالپور سمیت ایک درجن افراد کے بیرون ملک سفر کرنے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ 7 جنوری کو عدالت کی جانب سے سنائے گئے فیصلے میں نیب کو کیس کی از سرِ نو تفتیش کر کے رپورٹ 2 ماہ میں پیش کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

پلوامہ حملہ کے بعد کی صورت حال پر حکومت پر تنقید

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ ’نابالغ حکومت‘ کو ملک اور خطے کے حالات سمجھ نہیں آ رہے اور (کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ) بیک سیٹ ڈرائیور کو سیاست سمجھ نہیں آ رہی۔ بیک سیٹ ڈرائیوز نے اپنے تعلقات کی بنا پر کچھ مسلم ممالک سے آپ کو مدد دلوا دی مگر سفارتی سطح پاکستان دنیا میں تنہا ہو رہا ہے جس کا اس حکومت کو ادراک نہیں۔

جمعیت علماء اسلام ف کی حکومت مخالف احتجاجی تحریک کے اعلان کے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اب بہت ہو گیا، مولانا فضل الرحمن جہاں قدم رکھیں گے ہم قدم سے قدم ملائیں گے۔

پی پی پی کے شریک چیئرمین نے بھارتی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں حملے کے بعد کی پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ صورت حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک مشکل حالات سے گزر رہا ہے۔ ہنگامی حالات میں کشمیر کی صورت حال اہم ہے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ بھارت نے جارحیت کی تو پوری قوم فوج کے ساتھ کھڑی ہو گی۔

سابق صدر نے اپنے دور حکومت میں 2008 کے ممبئی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو عالمی سطح پر بہترین سفارت کاری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، جیسا اپنے دور حکومت میں ہم نے کیا تھا اور بھارت کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا تھا۔ آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ہم ہمسایوں کے ساتھ سیاسی حل نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ 14 فروری کو بھارت کے زیر تسلط کشمیر کے علاقے پلوامہ میں خودکش دھماکے میں انڈین فورسز کے 49 اہل کار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے، جس کے بعد بھارت نے حملے کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیا تھا، جبکہ پاکستان نے ان الزامات کی تردید کی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG