رسائی کے لنکس

logo-print

نیب نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو گرفتار کرلیا


فائل فوٹو

پاکستان میں بدعنوانی کی تحقیقات کرنے والے ادارے قومی احتساب بیورو (نیب) نے سندھ اسمبلی کے اسپیکر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم رہنما آغا سراج درانی کو گرفتار کر لیا ہے۔

آغا سراج درانی کے خلاف نیب آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام کی تحقیقات کر رہا تھا جس کے تحت درانی اور ان کی اہلیہ سمیت خاندان کے 11 افراد کے اثاثوں کی چھان بین کی جار ہی تھی۔

آغا سراج درانی کئی بار سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں۔ وہ 2013ء سے سندھ اسمبلی کے اسپیکر ہیں جب کہ اس سے قبل وہ 2008ء کے عام انتخابات کے بعد بننے والی سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیرِ بلدیات تھے۔

نیب کی ایک ٹیم نے بدھ کو آغا سراج درانی کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ایک ہوٹل سے حراست میں لیا جس کے بعد اسلام آباد کی ایک عدالت نے انہیں تین روزہ راہداری ریمانڈ پر نیب حکام کے حوالے کر دیا ہے۔

نیب کا کہنا ہے کہ آغا سراج درانی کو اسلام آباد سے کراچی لے جایا جائے گا جہاں ان کے خلاف تحقیقات ہو رہی ہیں اور ملزم کو کراچی کی ہی احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

آغا سراج درانی کی گرفتاری پر پاکستان پیپلز پارٹی نے سخت ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے احتجاج کا عندیہ دیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف زرداری نے بدھ کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران سراج درانی کی گرفتاری کی مذمت کی اور اسے جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی ایک کوشش قرار دیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور وزیرِ اعلیٰ سندھ کے مشیر مرتضیٰ وہاب ایڈوکیٹ نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی جماعت کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

آغا سراج کی گرفتاری پر اپنی جماعت کا ردِ عمل دیتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے گرفتاری کو امتیازی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بطور اسپیکر اور بطور منتخب رکن اسمبلی ان کا استحقاق مجروح کرنے کے مترادف ہے۔

دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور رکن سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے پیپلز پارٹی کے الزامات کو رد کرتے ہوئے اسپیکر سندھ اسمبلی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ نے کہا کہ معاملے کو سیاست کا رنگ نہیں دینا چاہیے اور آغا سراج درانی کو بے گناہ ثابت ہونے تک اپنا عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔

ان کے بقول آغا سراج درانی کے خلاف کئی سال سے تحقیقات چل رہی تھیں۔ انہیں صفائی کا موقع دیا جانا اور انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے۔ اگر وہ بے گناہ ثابت ہوجائیں تو ان کے دوبارہ اسپیکر بننے پر تحریکِ انصاف کو اعتراض نہیں ہوگا۔

آغا سراج درانی پاکستان کی تاریخ کے پہلے حاضر اسپیکر ہیں جنہیں گرفتار کیا گیا ہے۔

صوبے کے منتخب ایوان کا کسٹوڈین ہونے کے علاوہ اسپیکر صوبے میں گورنر کی عدم موجودگی کی صورت میں قائم مقام گورنر کے فرائض بھی انجام دیتا ہے۔

نیب کی جانب سے حالیہ عرصے میں کئی اہم گرفتاریوں کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اس پر انتقامی کارروائیوں کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں اور نیب قوانین کو تبدیل کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں۔

لیکن نیب قوانین کے ماہر اور نامور وکیل چوہدری محمد صدیق ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ نیب قانون پارلیمنٹ سے منظور شدہ ہے اور اس قانون کی سیکشن 24 ادارے کو گرفتاری کا اختیار دیتی ہے۔

ان کے بقول عدالت میں ریفرنس دائر ہونے سے پہلے گرفتاری پر اعتراض بلا جواز ہے۔ احتساب عدالت میں ریفرنس دائر ہونے کو فوجداری قوانین کے تحت ملزم کے خلاف چالان پیش کیے جانے کے مترادف سمجھا جانا چاہیے۔ اور چالان جب ہی جمع کرایا جاسکتا ہے جب ملزم سے تفتیش کا عمل مکمل ہو جس کے لیے قانون کے تحت نیب کے پاس 90 روز کا وقت ہوتا ہے۔

نیب کی جانب سے پچھلے چند ماہ کے دوران کئی اہم گرفتاریاں کی گئی ہیں۔ احتساب بیورو نے جن اہم سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کیا ہے ان میں قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اور سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف، تحریکِ انصاف کے رہنما اور سینئر وزیر پنجاب عبدالعلیم خان، سابق وفاقی وزرا خواجہ سعد رفیق اور سینیٹر کامران مائیکل شامل ہیں۔

نیب ان گرفتاریوں میں کسی سیاسی عمل دخل کے الزامات کو رد کرتا آیا ہے اور وہ ان گرفتاریوں کو خالصتاً قانونی کارروائی قرار دیتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG