رسائی کے لنکس

شام: زلزلے کے بعد جیل سے داعش کے 20 قیدی فرار

فائل فوٹو
فائل فوٹو

شام میں ایک جانب جہاں حکام ہلاکت خیز زلزلے کے بعد امدادی سرگرمیوں میں مصروف تھے وہیں ایک جیل سے خطرناک قیدیوں کےفرار کا واقعہ بھی پیش آیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق پیر کو جب شام اور ترکیہ میں زلزلہ آیا تو عین اسی وقت شام کے شمال مغرب میں واقع جیل میں قیدیوں نے بغاوت کر دی۔

خبر میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ20 قیدی فرار ہو گئے ہیں جن کا تعلق شدت پسند تنظیم داعش سے ہے۔

شام کی جس جیل سے قیدیوں کے فرار کا واقعہ پیش آیا ہے، یہ ترکیہ کی سرحد کے قریب راجو نامی علاقے میں واقع ہے اور اس کا انتظام ملٹری پولیس کے پاس ہے۔

اس جیل میں لگ بھگ دو ہزار قیدیوں کو رکھا گیا تھا جن میں سے 1300 قیدیوں کے بارے میں شبہ ہے کہ ان کا تعلق داعش سے ہے۔

اس جیل میں کرد فورسز کے جنگجوؤں کو بھی قید میں رکھا گیا ہے۔

ترکیہ اور شام میں زلزلے سے تباہی

ترکیہ اور شام میں سات اعشایہ آٹھ شدت کے زلزلے نے تباہی مچا دی ہے۔<br />
&nbsp;
1/12 ترکیہ اور شام میں سات اعشایہ آٹھ شدت کے زلزلے نے تباہی مچا دی ہے۔
 
مزید Show less
ترکیہ کے ڈیزازسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق ملک کے سات صوبوں میں عمارتیں گرنے کے واقعات میں 76 افراد ہلاک ہوئے ہیں جب کہ 440 زخمی ہیں۔
2/12 ترکیہ کے ڈیزازسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق ملک کے سات صوبوں میں عمارتیں گرنے کے واقعات میں 76 افراد ہلاک ہوئے ہیں جب کہ 440 زخمی ہیں۔
مزید Show less
زلزلے کے نتیجے میں متعدد عمارتیں زمین بوس ہوگئی ہیں۔&nbsp;
3/12 زلزلے کے نتیجے میں متعدد عمارتیں زمین بوس ہوگئی ہیں۔ 
مزید Show less
شام میں 111 افراد کی ہلاکتوں اور 516 کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
4/12 شام میں 111 افراد کی ہلاکتوں اور 516 کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
مزید Show less
زلزلے کا مرکز ترکیہ کا سرحدی شہر قہرمان مرعش تھا جب کہ اس کی گہرائی 10 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔
5/12 زلزلے کا مرکز ترکیہ کا سرحدی شہر قہرمان مرعش تھا جب کہ اس کی گہرائی 10 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔
مزید Show less
&nbsp;زلزلے کے جھٹکے شام اور ترکیہ سمیت لبنان، قبرص، یونان اور آرمینیا میں بھی محسوس کیے گئے۔
6/12  زلزلے کے جھٹکے شام اور ترکیہ سمیت لبنان، قبرص، یونان اور آرمینیا میں بھی محسوس کیے گئے۔
مزید Show less
ترکیہ کے ریڈ کراس کے مطابق انہیں بڑے پیمانے پر عمارتوں کے انہدام کی اطلاعات ہیں۔
7/12 ترکیہ کے ریڈ کراس کے مطابق انہیں بڑے پیمانے پر عمارتوں کے انہدام کی اطلاعات ہیں۔
مزید Show less
&nbsp;زلزلے کے شدید جھٹکے اس وقت محسوس کیے گئے جب بیشتر افراد سو رہے تھے۔
8/12  زلزلے کے شدید جھٹکے اس وقت محسوس کیے گئے جب بیشتر افراد سو رہے تھے۔
مزید Show less
متاثرہ علاقوں میں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کا کام جاری ہے۔
9/12 متاثرہ علاقوں میں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کا کام جاری ہے۔
مزید Show less
حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے کے بعد کم از کم 20 آفٹر شاکس آ چکے ہیں۔
10/12 حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے کے بعد کم از کم 20 آفٹر شاکس آ چکے ہیں۔
مزید Show less
زلزلے کے جھٹکے ایک منٹ تک محسوس ہوتے رہے جس کے نتیجے میں سرحد کے دونوں اطراف کئی عمارتیں منہدم ہو گئیں۔
11/12 زلزلے کے جھٹکے ایک منٹ تک محسوس ہوتے رہے جس کے نتیجے میں سرحد کے دونوں اطراف کئی عمارتیں منہدم ہو گئیں۔
مزید Show less
ریسکیو حکام ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
12/12 ریسکیو حکام ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
مزید Show less
Previous slide
Next slide

راجو جیل کے حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے سے راجو کا علاقہ بھی متاثر ہوا ہے۔ جس وقت یہاں زلزلہ آیا جیل میں قیدیوں نے ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے کئی مقامات کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

پیر کو ترکیہ اور شام میں 7.8 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس سے چار ہزار سے زائد اموات کی تصدیق ہو چکی ہے جب کہ مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

زلزلے سے راجو جیل کے کئی حصے متاثر ہوئے ہیں جب کہ بعض مقامات پر اس کی دیواروں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں۔

جنگ زدہ ملک شام کی صورتِ حال پر نظر رکھنے والے برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کے غیر سرکاری ادارے ’سیرین آبزرویٹری‘ کے مطابق جیل میں قیدیوں کی جانب سے بغاوت کی تصدیق ہوئی ہے البتہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ کتنے قیدی فرار ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ شام میں داعش کی جانب سے کئی بار جیلوں پر حملہ کرکے اپنے جنگجوؤں کو چھڑانے کی کوشش کے واقعات ہو چکے ہیں۔ اس کی تازہ مثال دو ماہ قبل دسمبر 2022 کی ہے جب رقہ میں ایک جیل پر حملہ کیا گیا تھا تاکہ وہاں سے داعش کے عسکریت پسندوں کو آزاد کرایا جا سکے۔

رقہ کے علاقے میں اس جیل کا انتظام کرد فورسز کے پاس تھا۔ داعش کے حملے میں اس کے چھ اہلکار مارے گئے تھے۔

شام میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف نئی فوجی مہم کا آغاز
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:27 0:00

یاد رہے کہ شام میں تنازع کا آغاز 2011 میں اس وقت ہوا تھا جب بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہرے شروع ہوئے تھے۔ بعد ازاں 2014 میں شدت پسند تنظیم داعش نے شام اور عراق کے کئی علاقوں پر قبضہ کرکے اپنی خلافت قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

عراق میں 2017 جب کہ شام میں 2019 میں اس تنظیم کے زیرِ قبضہ علاقوں کو واگزار کرا لیا گیا تھا۔ امریکہ نے اکتوبر 2019 میں تنظیم کے سربراہ ابوبکر البغدادی کو ہلاک کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ابوبکر البغدادی کے بعد داعش کا سربراہ ابو ابراہیم الہاشمی القریشی کو بنایا گیا تھا۔ گزشتہ برس فروری میں مغربی شام میں امریکی فورسز کی ایک کارروائی میں ابو ابراہیم الہاشمی القریشی نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔ اس وقت ان کے ہمراہ ان کے اہلِ خانہ کے افراد بھی تھے جو اس دھماکے میں مارے گئے تھے۔

اس رپورٹ میں خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ سے معلومات شامل کی گئی ہیں۔

This item is part of
​
XS
SM
MD
LG