رسائی کے لنکس

ڈیرہ اسماعیل خان: پولیس موبائل پر بم حملے میں ایک اہلکار ہلاک


(فائل فوٹو)

خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی میں منگل کی صبح نامعلوم افراد نے دیسی ساختہ ریموٹ کنٹرول بم سے حملہ کیا ہے۔ حملے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق حملہ پولیس کی گاڑی پر ہوا جس میں انسدادِ پولیو مہم میں سیکیورٹی فراہم کرنے والے اہلکاروں کو لے جایا جا رہا تھا۔

دھماکے میں پولیس کا ایک ہیڈ کانسٹیبل ہلاک اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہوا ہے جب کہ ڈرائیور بھی زخمی ہوا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز جائے وقوعہ پر پہنچ گئی تھیں اور دھماکے کی نوعیت معلوم کی جا رہی ہے۔

پولیس حکام کے بقول انسدادِ پولیو ٹیموں کی سیکیورٹی کے لیے پولیس اہلکاروں کو پہنچایا جا رہا ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ محمود خان نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے میں پولیس اہلکار کی ہلاکت پر انتہائی دکھ ہے اور وہ لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

محمود خان کا مزید کہنا تھا کہ اس قسم کے حملوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔ امن کے قیام کے لیے خیبر پختونخوا پولیس کی قربانیاں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔

خیال رہے کہ پاکستان بھر میں پولیو کے مرض پر قابو پانے کے لیے پیر سے انسدادِ پولیو کی پانچ روزہ مہم شروع کی گئی ہے جس کے دوران تین کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔

ملک بھر میں رواں سال اب تک 17 بچوں میں پولیو کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں سے 10 کا تعلق خیبر پختونخوا، پانچ کا سندھ اور دو کا بلوچستان سے بتایا جاتا ہے۔ پنجاب میں رواں سال اب تک پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں انسدادِ پولیو مہمات کو بعض علاقوں میں دشواری اور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کچھ قبائلی علاقوں میں لوگوں کے کچھ حلقے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانے کے مخالف ہیں۔ لہٰذا پولیو ورکرز اور ان کی سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں پر حملے بھی ہوتے رہتے ہیں۔

دوسری جانب پیر کو بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں بھی ایک خودکش حملہ ہوا تھا جس میں 8 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں پولیس اہل کار بھی شامل ہیں۔

خیبرپختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان بلوچستان اور پنجاب کے بعض اضلاع سے ملحق ہیں اور یہاں پچھلے کئی برسوں سے تواتر کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ پچھلے دو ہفتوں کے دوران ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کے اضلاع میں دہشتگردوں اور سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کے درمیان متعدد جھڑپیں بھی ہوچکی ہیں جن میں سیکورٹی اہلکاروں کے علاوہ نصف درجن سے زیادہ مبینہ دہشت گرد بھی ہلاک ہوچکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG