رسائی کے لنکس

logo-print

آسٹریلوی کپتان سٹیو سمتھ، وارنر اور بین کروفٹ واپس آسٹریلیا جائیں گے


آسٹریلوی کپتان سٹیون سمتھ اور بین کروفٹ کیپ ٹاون میں ہونے والی پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سوالوں کے جواب دے رہے ہیں۔

کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگذیکٹو جیمز سدر لینڈ نے اعلان کیا ہے کہ بال ٹیمپرنگ میں ملوث آسٹریلوی کھلاڑی کپتان سٹیو سمتھ، نائب کپتان ڈیوڈ وارنر اور اوپننگ بیٹسمین کیمرون بینکرافٹ کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے اور وہ بدھ کے روز جنوبی افریقہ سے واپس آسٹریلیہ روانہ ہو جائیں گے۔ سٹیو سمتھ کی جگہ جنوبی افریقہ کے خلاف چوتھے اور آخری ٹیسٹ کیلئے وکٹ کیپر ٹم پین کو کپتان مقرر کر دیا گیا ہے۔

سدرلینڈ نے مزید کہا کہ بال ٹیمپرنگ میں صرف یہ تین کھلاڑی ہی ملوث پائے گئے ہیں۔ ان تینوں کی سزاؤں کے بارے میں فیصلہ اگلے 24 گھنٹوں میں کر دیا جائے گا۔

سدرلینڈ نے کہا کہ ٹیم کے کوچ ڈیرن لیمین اس بال ٹیمپرنگ سکینڈل میں ملوث نہیں تھے۔ لہذا وہ اپنا کام کرتے رہیں گے۔

آسٹریلیا کے وکٹ کیپر بیٹسمین کیمرون بین کروفٹ کو بال ٹیمپرنگ کرنے پر میچ کا 75 فیصد جرمانہ اور تین ڈی میرٹ پوائنٹس کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ بال ٹیمپرنگ کا یہ واقعہ آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان گزشتہ ہفتے کے دوران کھیلے گئے سیریز کے ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن پیش آیا۔

کیمرون بینکرافٹ کے علاوہ آسٹریلوی ٹیم کے کپتان سٹیو سمتھ پر بھی ایک میچ کی پابندی اور پورے میچ کی فیس کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے اور خدشہ ہے کہ اُنہیں آسٹریلیا کی کپتانی سے بھی ہاتھ دھونا پڑے گا۔

آسٹرلیا کے کپتان سٹیو سمتھ واپس روانہ ہوتے ہوئے کیپ ٹاؤں کے ہوائی اڈے پر
آسٹرلیا کے کپتان سٹیو سمتھ واپس روانہ ہوتے ہوئے کیپ ٹاؤں کے ہوائی اڈے پر

سٹیو سمتھ نے اعتراف کیا کہ اُنہوں نے اُس روز کھانے کے وقفے کے دوران چند سینئر کھلاڑیوں کے ساتھ مشورے سے بال ٹیمپرنگ کا منصوبہ بنایا تاکہ بال کی حالت میں تبدیلی کر کے اسے ریورس سونگ کے قابل بنایا جائے اور پھر جنوبی افریقہ کی ٹیم کو جلد آؤٹ کر کے ٹیسٹ جیت لیا جائے۔

سٹیو سمتھ کا یہ خواب تو پورا نہ ہو سکا اور اُن کی ٹیم جنوبی افریقہ سے یہ ٹیسٹ 322 رنز سے ہار گئی۔ لیکن خود اُن کے لئے اور کیمرون بینکرافٹ کے لئے یہ واقعہ ذلت و رسوائی کا سبب بن گیا۔

آسٹریلیا کے وزیر اعظم مالکوم ٹرن بل نے کہا کہ وہ اس واقعے کے بارے میں اطلاع ملنے پر ششدر رہ گئے اور اُنہیں شدید مایوسی ہوئی ہے۔ اُنہوں نے کرکٹ آسٹریلیا کے چیئرمین ڈیوڈ پیور کو اپنی تشویش سے آگاہ کر دیا ہے۔ آسٹریلوی وزیر اعظم نے کہا، ’’ہماری ٹیم دھوکہ دینے میں ملوث کیسے ہو سکتی ہے؟‘‘

کرکٹ آسٹریلیا کے چیئرمین ڈیوڈ پیور نے کہا کہ آسٹریلوی ٹیم کرکٹ کی دنیا میں ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن آج اس ٹیم نے تمام قوم کو شرمندگی سے دو چار کر دیا ہے۔

سٹیو سمتھ نے انڈین کرکٹ لیگ میں راجستان رائلز کی کپتانی سے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔ آئی پی ایل کے ساتھ اُن کا معاہدہ 24 لاکھ ڈالر میں ہوا تھا اور اب خدشہ ہے کہ یہ معاہدہ بھی منسوخ ہو سکتا ہے جس سے اُنہیں نہ صرف معاہدے کی رقم بلکہ سپانسرشپ سے حاصل ہونے والی خطیر رقم سے بھی محروم ہونا پڑے گا۔

سٹیو سمتھ کو موجودہ دور کا سب سے بڑا بیٹسمین مانا جاتا ہے اور بعض ماہرین اُنہیں بریڈمین کے بعد آسٹریلیا کا عظیم ترین بیٹسمین تصور کرتے ہیں۔ وہ اب تک 64 ٹیسٹ کھیل کر 61.37 کی اوسط سے 6199 رنز بنا چکے ہیں جن میں 23 سنچریاں اور 24 نصف سنچریاں شامل ہیں۔

کرکٹ کی دنیا میں بال ٹیمپرنگ کوئی نئی چیز نہیں ہے اور مختلف ملکوں کے کئی کھلاڑی اس حرکت پر سزا بھگت چکے ہیں۔ کرکٹ کے قانون نمبر 41 کی شق 3 میں واضح کیا گیا ہے کہ بال کو کوئی مصنوعی شے استعمال کئے بغیر چمکایا جا سکتا ہے، گیلا ہونے کی صورت میں کسی تولیے سے خشک کیا جا سکتا ہے اور اگر اس پر کیچڑ موجود ہو تو امپائروں کی نگرانی میں صاف کیا جا سکتا ہے۔ ان تینوں کے علاوہ کسی بھی اور طریقے سے بال کی حالت میں تبدیلی کرنا غیر قانونی ہے۔

عام طور پر کرکٹ کے کھلاڑی بال کو زمین پر رگڑ کر اور ناخنوں سے اس کی سیم کو بگاڑ کر اس کی حالت بدلنے کی کوشش کرتے ہوئے پائے گئے ہیں اور اکثر اوقات ایسا کرتے ہوئے کھلاڑی پکڑے جانے سے بچ بھی جاتے ہیں۔

پاکستانی ٹیم کے کپتان انظمام الحق اوول گراؤنڈ سے واک آؤٹ کرتے ہوئے
پاکستانی ٹیم کے کپتان انظمام الحق اوول گراؤنڈ سے واک آؤٹ کرتے ہوئے

​شائقین کرکٹ کو یاد ہو گا کہ 2006 میں انگلستان کے خلاف ٹیسٹ میچ کے دوران پاکستانی ٹیم پر بال ٹیمرنگ کا الزام لگا تھا جس کے بعد کپتان انظمام الحق نے اپنی ٹیم کے ساتھ گراؤنڈ سے واک آؤٹ کیا تھا۔ پاکستان کے علاوہ متعدد دیگر ملکوں کے کرکٹرز پر بھی بال ٹیمپرنگ کا الزام لگتا رہا ہے۔ یوں یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے۔ تاہم آسٹریلیا کی ٹیم کے بال ٹیمپرنگ کی زد میں آنے سے کرکٹ کی دنیا میں تہلکہ مچ گیا ہے۔

کیمرون بینکرافٹ کیسے پکڑے گئے؟ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ اُن کے ہاتھ میں پیلی رنگ کی کوئی چیز دیکھی گئی جس پر امپائروں نے اُن سے پوچھا تو اُنہوں نے عینک صاف کرنے والے چھوٹے سے کپڑے کا ٹکڑا دکھا دیا۔ اس پر امپائر مطمئن ہو گئے۔ تاہم اس ٹیسٹ کو براہ راست دکھانے والے ٹیلی ویژن چینل سوپر سپورٹس کی پروڈکشن ٹیم کے سربراہ ایلن نائیکر نے بینکرافٹ کو کوئی پیلے رنگ کی شے گھبراہٹ میں اپنے انڈر ویئر میں چھپاتے ہوئے کیمرے پر دیکھ لیا۔

ایلن نائیکر نے بعد میں ایک انگریزی اخبار کو بتایا کہ شروع میں کیمرون بینکرافٹ کے ہاتھ میں پیلے رنگ کی کوئی چیز دیکھی گئی جسے بعد میں اُنہوں نے اپنی جیب میں رکھ لیا۔ اُس وقت تک یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ کیا چیز ہے۔ تاہم بعد میں بینکرافٹ نے یہ پیلے رنگ کی چیز عجلت میں اپنے انڈر ویئر میں چھپائی تو کیمرے کے زوم سے معلوم ہوا کہ یہ پیلے رنگ کی ٹیپ ہے۔ اس پر کیمرے نے ڈریسنگ روم پر فوکس کیا تو دیکھا گیا کہ کوچ ڈیرن لیمین واکی ٹاکی پر سٹیڈیم میں موجود کھلاڑی پیٹر ہینڈز کوم سے بات کر رہے تھے جو بھاگ کر بینکرافٹ کے پاس گئے اور اس سے کچھ بات کی جس پر بینکرافٹ گھبرا گئے اور اُنہوں نے گھبراہٹ میں پیلے رنگ کی ٹیپ جیب سے نکال کر اپنے انڈر ویئر میں چھانے کی کوشش کی۔ کیمرا یہ سب منظر دکھا رہا تھا۔

بعد میں جب بینکرافٹ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو اُنہوں اعتراف کیا کہ وہ بال ٹیمپرنگ کر رہے تھے۔ اس کے بعد آسٹریلیا کے کپتان سٹیو سمتھ نے بھی اعتراف کیا کہ وہ اس بارے میں پہلے سے جانتے تھے کیونکہ اس کی منصوبہ بندی اُنہوں نے خود کھانے کے وقفے کے دوران سینئر کھلاڑیوں کے ساتھ مل کر کی تھی۔ سٹیو سمتھ نے کہا کہ اُن سے یہ غلطی ہوئی ہے اور وہ اس پر بہت شرمندہ ہیں۔

کرکٹ آسٹریلیا اس واقعے کے بارے میں چھان بین کر رہی ہے اور توقع ہے کہ وہ جلد ہی اس بارے میں ایک مفصل فیصلے کا اعلان کرے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG