رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان: برفانی تودے گرنے سے کم ازکم 14 افراد ہلاک، متعدد لاپتا


بدخشاں کے علاقے میں سونے کی کانیں موجود ہیں۔ فائل فوٹو

افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشاں میں برفانی تودوں کے گرنے اور برفشار یا Avalanche سے کم ازکم 14 افراد ہلاک اور بہت سے زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ حادثہ جمعرات کو پیش آیا۔

برفشار کا نشانہ صوبے بدخشاں میں ضلع راغستا بنا ہے۔ یہ علاقہ طالبان کے کنٹرول میں ہے، جس کی وجہ سے امدادی کوششوں میں رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔

صوبائی گورنر کے ترجمان نیک محمد نے کہا ہے کہ برفانی تودوں سے زارنداب نامی گاؤں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جس کے بعد سے وہاں بہت سے مقامی لوگ لاپتا ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ متاثرہ علاقے سے رابطے کٹے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے حکومت کو یہ معلوم نہیں ہے کہ لوگوں کی ہلاکتیں گاؤں کے اندر ہوئیں یا وہ اس وقت مارے گئے جب وہ کانوں میں سے سونا ڈھونڈ رہے تھے۔

صوبائی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر بشر سمیم نے کہا ہے کہ اب تک ملنے والی اطلاعات ابتدائی نوعیت کی ہیں اور یہ خدشات موجود ہیں کہ ہلاکتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

حادثے کا نشانہ بننے والا علاقہ
حادثے کا نشانہ بننے والا علاقہ

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بہت سے لوگ برف میں دبے ہوئے ہیں۔

بدخشاں میں سن 2019 میں اس وقت کئی درجن افراد ہلاک ہو گئے تھے جب ایک کان زمین میں دھنس گئی تھی۔

علاقے میں موجود سونے کی کانوں کی دیکھ بھال کا انتظام مقررہ معیار سے کہیں کم ہے اور حفاظتی انتظامات کی بھی قلت ہے۔

افغانستان میں غیر قانونی کان کنی بہت عام ہے۔ بڑے پیمانے پر بے روزگاری اور امن و امان کی مخدوش صورت حال کے باعث لوگ روزی کمانے کے لیے ہر ممکنہ ذریعہ استعمال کرتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG