رسائی کے لنکس

logo-print

بابری مسجد فیصلہ: ایودھیا میں سخت حفاظتی انتظامات، اسکولوں میں جیلیں قائم


فائل فوٹو

بھارتی سپریم کورٹ 17 نومبر سے قبل کسی بھی دن بابری مسجد رام جنم مندر معاملے میں اپنا فیصلہ سنانے والی ہے۔ فیصلے کا انتظار پورا ملک کر رہا ہے خاص طور پر ایودھیا اور فیض آباد کے عوام بڑی بے صبری کے ساتھ فیصلے کے منتظر ہیں۔

فیصلے کے حوالے سے ان دونوں شہروں کے ساتھ ساتھ دیگر حساس مقامات پر بھی سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

انتظامیہ نے ایودھیا میں لوگوں کے اجتماع پر پابندی لگا دی ہے جبکہ ریاست میں نظم و نسق کو برقرار رکھنے کے لیے نیم فوجی دستوں کے 400 اضافی جوان تعینات کیے جا رہے ہیں۔

اضافی سیکیورٹی اہلکار ایودھیا اور فیض آباد کے علاوہ 12 حساس اضلاع میں تعینات کیے جائیں گے۔

بابری مسجد کے انہدام کا واقعہ 1992 میں ہوا تھا — فائل فوٹو
بابری مسجد کے انہدام کا واقعہ 1992 میں ہوا تھا — فائل فوٹو

فیض آباد پولیس نے سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد کی نگرانی کے لیے 16 ہزار رضا کار تعینات کیے ہیں۔

اس کے علاوہ ضلع امبیڈکر نگر میں مختلف اسکولوں میں آٹھ عارضی جیلیں بنائی گئی ہیں۔

وزیر اعظم نریند رمودی نے تمام وزار کو ہدایت کی ہے کہ وہ فیصلے سے قبل اور اس کے بعد بیانات دینے میں محتاط رہیں۔ غیر ضروری تبصروں سے بچیں اور فیصلے کے خیر مقدم کا ماحول بنانے میں معاون بنیں۔

دیگر سیاسی، سماجی، مذہبی و روحانی شخصیات کی جانب سے بھی قیام امن کی اپیلیں کی جا رہی ہیں۔

مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے اس سلسلے میں مسلم اور ہندو شخصیات کے ساتھ کئی اجلاس کیے ہیں۔

مختار عباس نقوی کا کہنا ہے کہ ملک میں قیام امن کو برقرار رکھنا ہے۔ نہ تو جیت کا جشن منانا ہے اور نہ ہار کا افسوس کرنا ہے۔

ایودھیا سمیت کئی اضلاع میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے — فائل فوٹو
ایودھیا سمیت کئی اضلاع میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے — فائل فوٹو

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن کمال فاروقی نے بتایا کہ اس قسم کی ملاقاتوں میں قیام امن پر زور دیا جا رہا ہے۔

آر ایس ایس اور مسلم علما کی جانب سے بھی اپنے طور پر اجلاس اور قیام امن کی اپیل کی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ بھارت کی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کی سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ 16 اکتوبر کو محفوظ کیا تھا۔

بھارت کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی تھی۔ مذکورہ بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس ایس اے بوبڈے، ڈی وائی چندر چوڑ، اشوک بھوشن اور ایس عبد النذیر شامل ہیں۔

بھارت کی سپریم کورٹ نے اعلان کیا تھا کہ 18 نومبر کو چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ سے قبل ہر صورت اس کیس کا فیصلہ سنا دیا جائے گا۔

بابری مسجد تنازع ہے کیا؟

سولہویں صدی میں تعمیر کی جانے والی بابری مسجد کے بارے میں ہندوؤں کا دعویٰ ہے کہ وہاں ان کے مذہبی رہنما رام جی پیدا ہوئے تھے۔

ہندوؤں کا مؤقف ہے کہ پہلے وہاں مندر تھا جسے مسلمان حکمران ظہیر الدین بابر کے سپہ سالار میر باقی نے منہدم کر کے وہاں مسجد تعمیر کی تھی۔

مسلمان اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے آئے ہیں۔

یاد رہے کہ چھ دسمبر 1992 کو وشو ہندو پریشد کی اپیل پر بھارت کے شہر ایودھیا میں واقع مسجد کے نزدیک ہندوؤں کا ایک بڑا اجتماع ہوا تھا جس نے بابری مسجد منہدم کر دی تھی۔

اس کے بعد وہاں ایک عارضی مندر بنا دیا گیا تھا جس میں آج تک پوجا ہو رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG