رسائی کے لنکس

logo-print

عبدالقدوس بزنجو بلوچستان کے نئے وزیراعلیٰ منتخب


عبدالقدوس بزنجو

بلوچستان اسمبلی نے ہفتہ کو مسلم لیگ قائد اعظم سے تعلق رکھنے والے میر عبدالقدوس بزنجو کو نیا قائد ایوان منتخب کیا جنہوں نے شام کو صوبے کے سولہویں وزیراعلیٰ کے طور پر اپنے منصب کا حلف اٹھایا۔

کوئٹہ میں گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے ان سے عہدے کا حلف لیا۔

ہفتہ کی صبح صوبائی اسمبلی میں ہونے والی ووٹنگ میں عبد القدوس بزنجو کے حصے میں 41 ووٹ آئے جبکہ اُن کے حریف پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے آغا سید لیاقت علی نے 13 ووٹ حاصل کئے۔

صوبائی اسمبلی کی اسپیکر راحیلہ حمید دُرانی نے نتائج کا اعلان کر تے ہوئے کہا کہ "انتخابی عمل مکمل ہوگیا ہے۔ کل ووٹ ڈالے گئے تھے 54، جس میں عبد القدوس بزنجو نے 41 ووٹ حاصل کئے ہیں جبکہ آغا سید لیاقت علی نے 13 ووٹ حاصل کئے اس طرح ان انتخالی نتائج کی روشنی میں ایوان کی اکثریت کا ووٹ حاصل کرنے پر آئین پاکستان کے تحت میں اُن (عبدالقدوس بزنجو) کے وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کا اعلان کرتی ہوں۔"

2013 ء میں ہونے والے عام انتخابات میں عبدالقدوس بزنجو مسلم لیگ قائداعظم کی ٹکٹ پر بلوچستان کے ضلع آوران سے منتخب ہوئے تھے۔ انتخابات کے بعد مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ قائداعظم کے ارکان نے حکومت کی تشکیل کے لئے اتحاد کر لیا تھا اور عبدالقدوس بزنجو ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوگئے تھے لیکن سابق وزیر اعلیٰ نواب ثنا ءاللہ زہری سے اختلافا ت کے باعث وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے ۔

اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عبدالقدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ وہ پورے صوبے کے عوام کی بلاتفریق خدمت کریں گے اور صوبے کو ترقی کی راہ پر گامز ن کریں گے۔"

ہفتہ کو ہونے والے اجلاس سے نیشنل پارٹی کے سات، مسلم لیگ ن کے دو اور ایک آزاد رکن غیر حاضر رہے جبکہ نیشنل پارٹی کے تین اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے ایک رکن نے پارٹی کی پالیسی کے بر خلاف عبدالقدوس بزنجو ووٹ دیا۔

2013 ء میں ہونے والے عام انتخاب کے بعد عبد القدوس بزنجو صوبے کے تیسر ے وزیراعلیٰ ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری نے گزشتہ ہفتے اپنے خلاف اراکین اسمبلی کے انحراف اور عدم اعتماد کی تحریک لانے کی کوششوں کے بعد وزارت اعلیٰ کے منصب سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

اس سے قبل 2015ء میں مسلم لیگ ن سے شراکت اقتدار کے معاہدے کے تحت ڈھائی سال اقتدار میں رہنے کے بعد نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اس منصب سے علیحدہ ہو گئے تھے۔

گزشتہ عام انتخابات میں عبدالقدوس بزنجو نے بلوچستان کے پسماندہ ترین ضلع آواران سے صوبے کی تاریخ میں اسمبلی کی رکنیت کے لئے سب سے کم یعنی 540 ووٹ حاصل کئے تھے۔

اربوں ڈالر کی لاگت سے بننے والی پاک چین اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کا ایک بڑا حصہ ضلع آواران سے گزرتا ہے۔ یہ ضلع کالعدم بلو چ عسکر ی تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سر براہ ڈاکٹر اللہ نذز کا آبائی ضلع ہے جہاں امن وامان کی صورتحال دیگر اضلاع کی نسبت کافی خراب رہتی ہے اور اکثر و بیشتر سیکورٹی فورسز پر جان لیوا حملے بھی ہوتے رہتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG