رسائی کے لنکس

logo-print

بلوچستان میں مکمل امن بحال کرنے کا دعویٰ


بلوچستان کے وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزیجو، فائل فوٹو

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبد القدوس بزنجو نے بیرون ملک مقیم بلوچ راہنماؤں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے دشمنوں کی ایماءپر ملک سے بلوچستان کی علیحدگی کا خواب دیکھنے والے عنا صر کا سیکیورٹی فورسز نے قلع قمع کردیا ہے۔

کو ئٹہ میں جمعرات کو فرنٹیر کور بلوچستان کے شہداءکے حوالے سے ہونے والی ایک تقریب میں تقریر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ میر عبد القدوس بزنجو نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی بے پنا ہ قر بانیوں کے نتیجے میں صوبے میں اب مکمل طور پر امن بحال ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں اُن سے مخاطب ہوں گا جو بیرون ملک بیٹھ کر دوسروں کے عزائم کو یہاں پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں چاہے وہ براہمدغ یا حیر بیار ہوں یا اور کوئی دشمن، جو یہاں پر دہشت گردی پھیلاتے ہیں، اُن کو اب یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اب وہ یہاں کے لوگوں کو ریاست کے خلاف اکسا نہیں سکتے ۔ یہاں کے لوگوں کو نقصان نہیں پہنچا سکتے ۔ ہماری سیکیورٹی فورسز نے اُن کے عزائم کونا کام بنا دیا ہے۔

قدرتی وسائل سے مالا مال پاکستان کا یہ جنوب مغربی صوبہ بلوچستان گزشتہ ڈیڑھ عشرے سے زائد عر صے سے بدامنی کی لپیٹ میں رہا ہے جس کی ذمہ داری سیکیورٹی ادارے اور صوبائی حکام کالعدم بلوچ عسکری اور مذہبی شدت پسند تنظیموں پر عائد کرتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبد القدوس بزنجو نے بلوچستان کے اکثر یتی پشتون اضلاع میں بڑے بڑے اجتماعات منعقد کر نے والے پشتون تحفظ موومنٹ کے راہنما منظور پشتین پر بھی نکتہ چینی کی اور کہا کہ پاک فوج کے جوانوں کی قربانیوں کی بدولت فاٹا اور بلوچستان میں امن قائم ہوگیا ہے لیکن بعض عناصر بیرونی قوتوں کی ایماءپر فورسز کے خلاف جلسے کر کے اُن کو بدنام کرنے کی کو شش کر رہے ہیں۔

یہ امر قابل ذ کر ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے بعض راہنماؤں کے خلاف بلوچستان میں کئے جانے والے جلسوں میں پاک فوج اور دیگر اداروں کے خلاف تقارير کرنے پر تین اضلاع میں ایف ائی ار درج کی جا چکی ہے لیکن کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

فرنٹیر کو ر بلوچستان کا کہنا ہے کہ صوبے کے مختلف علاقوں میں کی گئی سینکڑوں کارروائیوں کے دوران فورس کے 763 جوان ہلاک اور دو ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

دوسری طرف بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں پشتوانخواملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی کے راہنماؤں اور شیعہ ہزارہ تنظیموں نے صوبائی حکومت کے دعوؤں کو غلط قرار دیا ہے۔

وزیر اعلیٰ کے بیان پر رد عمل میں انہوں نے کہا ہے کہ آئے روز کو ئٹہ شہر میں اب بھی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میڈیا میں رپورٹ ہوتے ہیں اور صوبے کے دیگر علاقوں میں سیکیورٹی فورسز پر حملے کئے جاتے ہیں جس میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG