رسائی کے لنکس

logo-print

منظور پشتین کو کوئٹہ ایئر پورٹ سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ملی


Manzoor Pashteen

پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کو کو ئٹہ ایئر پورٹ پہنچنے کے بعد باہر نکلنے کی اجازت نہیں ملی اور انہیں وہیں سے واپس کراچی بھیج دیا گیا۔

صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ منظور پشتین کی آمد کے باعث صوبے میں امن وامان کی صورت حال میں خراب ہونے کا خدشہ تھا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین پیر کو جب کراچی سے پی ائی اے کی ایک پرواز کے ذریعے کوئٹہ کے ہوائی اڈے پہنچے تو وہاں پر موجود سرکاری حکام نے انہیں ہوائی اڈے کی عمارت سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی اورایئرپورٹ کی عمارت کے اندر ہی رکھا گیا۔بعد ازاں انہیں کراچی جانے والے ایک طیارے میں بٹھا کر واپس بھیج دیا گیا۔

محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ منظور پشتین کی کو ئٹہ آمد کے باعث صوبے میں امن و امان کی صورت حال خراب ہونے کا اندیشہ تھا، اس لئے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کوئٹہ کی درخواست پر صوبائی محکمہ داخلہ نے منظور پشتین کے داخلے پر 90 روز کے لئے پابندی عائد کر دی ہے۔ اور انہیں ایئر پورٹ سے ہی واپس کر اچی بھیج دیا گیا۔

وائس آف امریکہ نے صوبائی حکومت کی ترجمان بشرا رند سے سرکاری موقف جانے جاننے کے لئے کوشش کی،لیکن فون کا جواب نہیں ملا۔

پشتون تحفظ موﺅمنٹ کی ایک راہنما ثنا اعجاز نے منظور پشتین کو واپس کراچی بھیجنے کی تصدیق کرتے ہوئے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ آج انہوں نے کو ئٹہ میں موبلائیزیشن کرنی تھی اور بلوچستان میں اپنے دوستوں سے ملنا تھا، لیکن انہیں ائیر پورٹ پر روکا گیا اور پھر جہاز پر سوار کر کے واپس کراچی اور وہاں سے اسلام آباد بھیج دیا گیا۔

منظور پشتین اس سے پہلے کر اچی گئے ہوئے تھے جہاں سندھ کی حکومت نے بھی ان پر پابندی عائد کر دی تھی۔

منظور پشتین کو ئٹہ اور دیگر پشتون علاقوں کا اس سے پہلے کئی بار دورہ کر چکے ہیں جہاں ان کی آمد و رفت پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں کی گئی تھی۔

بلوچستان کے پشتون اکثریتی اضلاع میں منظور پشتین کے حامی سیاسی کارکنوں کی تعداد دیگر قوم جماعتوں کے مقابلے میں کم ہے، تاہم صوبے کی پشتون سیاسی جماعتوں کی حمایت سے منظور پشتین مختلف اضلاع میں بڑے جلسے کرنے میںؒ کامیاب رہے اور بعض اضلاع میں ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف سخت زبان استعمال کرنے پر منظور اور ان کے ساتھیوں کے خلاف مقدمات بھی درج کئے جا چکے ہیں، تاہم اب تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG