رسائی کے لنکس

logo-print

منظور پشتین کے سندھ میں داخلے پر پابندی کا نوٹیفیکیشن واپس


فائل

سندھ حکومت نے پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور احمد پشتین کے صوبے میں داخلے سے متعلق نوٹیفیکیشن، شدید تنقید کے بعد، واپس لے لیا ہے۔

اس سے قبل جمعے کے روز جاری کئے گئے نوٹیفیکیشن کے تحت پشتون تحفظ موومنٹ کے چئیرمین پر 90 روز کے لیے صوبے میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

انسپکٹر جنرل سندھ کلیم امام کی سفارش پر سندھ حکومت کے محکمہ داخلہ کی جانب سے جمعے کو رات گئے جاری کردہ نوٹی فیکیشن کے تحت پشتون تحفظ قومی موومنٹ کے سربراہ پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

حکومت نے الزام عائد کیا تھا کہ ''وہ نفرت پر مبنی تقاریر کرکے لوگوں کو ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف اکساتے ہیں، جس سے کراچی کا امن خراب ہو رہا ہے''۔

محکمہ داخلہ کے مطابق، منظور احمد محسود (پشتین) پر سندھ میں داخلے پر پابندی عوامی مفاد اور صوبے میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے لئے کی گئی تھی۔

مگر اس فیصلے پر سندھ حکومت کو سوشل میڈیا پر دن بھر کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ پیپلز پارٹی قیادت اور سوشل میڈیا سیل فیصلے کا دفاع کرتے نظر آئے۔

پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری کی بیٹی اور چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کی بہن بختاور بھٹو زرداری نے ٹوئٹر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم الزمات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ نوٹیفیکیشن خود ہی یہ بتا رہا ہے کہ یہ کس کے حکم پر جاری کیا گیا۔

تاہم، بعد میں فیصلہ تبدیل کرکے جمعے کے روز جاری کردہ پابندی کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا گی، جس پر سوشل میڈیا پر سندھ حکومت کے فیصلے کو 'یوٹرن' سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ بعض صارفین اسے صوبائی حکومت کا اچھا فیصلہ بھی کہہ رہے ہیں، جب کہ بعض کا کہنا ہے کہ منظور پشتین پر صوبے میں داخلے پر پابندی غیر آئینی تھی۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے چئیرمین آج کل کراچی میں ہیں اور اس دوران انہوں نے مختلف علاقوں میں کئی کارنر میٹنگز سے خطاب کیا ہے۔ اس سے قبل پی ٹی ایم کراچی میں رواں سال مئی میں بڑا جلسہ بھی کر چکی ہے۔

پاکستان کے فوجی ترجمان میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے دئیے گئے بیان کے مطابق، تحریک کے تمام مطالبات پہلے ہی مان لئے گئے ہیں۔

فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ حکومت اور فوج 'پی ٹی ایم' کے تین مطالبات پہلے ہی مان چکی ہیں اور اب وہ اس طرف نہ لے جائیں کہ جہاں "ریاست کو اپنا زور لگا کر صورتِ حال کو قابو کرنا پڑے۔"

دوسری جانب، پی ٹی ایم کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں فوجی ترجمان کے بیان کی تردید کی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG