رسائی کے لنکس

logo-print

بلوچستان کے ضلع کچھی میں خام تیل کا ذخیرہ دریافت


فائل فوٹو

اسد ربانی کے بقول 1500 بیرل تیل کی یومیہ پیداوار ایک بہت بڑی کامیابی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ علاقے میں زیرِ زمین تیل کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔

پاکستان میں حکام نے بلوچستان کے ضلع کچھی بولان میں تیل کا بڑا ذخیرہ دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

یہ ذخیرہ ماڑی پیٹرولیم کمپنی لمیٹڈ اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ نے مشترکہ طور پر دریافت کیا ہے۔

ماڑی پیٹرولیم کمپنی لمیٹڈ کے ترجمان اسد ربانی نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ خام تیل کا یہ ذخیرہ بلوچستان کے مشرقی ضلع کچھی بولان کے علاقے مچھ میں دریافت ہوا ہے جس سے روزانہ کی بنیاد پر خام تیل نکالا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر سائٹ پر دو ٹیوب ویل لگائے گئے تھے جن میں سے ایک سے 810 بیرل اور دوسرے سے 690 بیرل تیل نکل رہا ہے۔

اسد ربانی کے بقول 1500 بیرل تیل کی یومیہ پیداوار ایک بہت بڑی کامیابی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ علاقے میں زیرِ زمین تیل کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ ابتدا میں جو تیل نکل رہا ہے وہ تھوڑا گاڑھا (Thick) ہے جسے کراچی میں تیل صاف کرنے والے کارخانوں کو بھیجا جائے گا جو اس کا تجزیہ کر کے بتائیں گے کہ تیل کی کوالٹی کیا ہے اور اس میں سے کتنا پیٹرول اور کتنی دیگر چیزیں نکل سکتی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ضلع کچھی میں یہ کنویں رواں سال مئی میں کھودے گئے تھے اور تقریباً 1500 فٹ زیرِ زمین کھدائی کے بعد یہ ذخائر دریافت ہوئے۔

ماڑی پیٹرولیم کمپنی کے ترجمان نے مزید بتایا کہ تیل کا یہ ذخیر ہ زمین کی اُس تہہ میں دریافت ہوا ہے جسے 'مورو مغل کوٹ اینڈ چلتن فارمیشن' کہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس علاقے میں پہلے زمین کی اس تہہ سے کبھی کوئی تیل وغیرہ در یافت نہیں ہوا اور حالیہ دریافت کے بعد یہ اُمید پیدا ہو چلی ہے کہ مستقبل میں بھی زمین کی اسی تہہ سے کسی دوسری جگہ تیل کے مزید ذخائر بھی مل سکتے ہیں۔

بلوچستان کے ضلع زیارت کے علاقے خوست میں بھی کچھ عرصہ پہلے خام تیل کا ایک بڑا ذخیرہ دریافت کیا گیا تھا لیکن وہاں سے نامعلوم وجوہات کی بنا پر تاحال خام تیل کی سپلائی شروع نہیں ہوسکی ہے۔

ماڑی کمپنی کوئٹہ کے قریب زرغون کے علاقے سے گیس بھی دریافت کرچکی ہے جہاں سے کوئٹہ شہر کو گیس فراہم کی جارہی ہے۔

بلوچستان کی صوبائی حکومت نے تیل و گیس تلاش کرنے والی تقریباً ایک درجن سے زائد کمپنیوں کو صوبے میں کھدائی کے لائسنس جاری کیے ہیں جو صوبے کے مختلف علاقوں میں تیل و گیس تلاش کر رہی ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان کے سابق نگران وفاقی وزیر عبداللہ حسین ہارون نے چند ماہ قبل کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ تیل و گیس تلاش کرنے والی امریکہ کی ایک بڑی کمپنی پاک ایران سرحد کے قریب بلوچستان کے ایک علاقے میں تیل کا ایک بڑا ذخیرہ دریافت کرنے کے قریب ہے۔

ان کے بقول اگر یہ دریافت کامیاب رہی تو تو یہ ذخیرہ خلیجی ملک کویت میں موجود تیل کے ذخائر سے بھی بڑا ہوگا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG