رسائی کے لنکس

بلوچستان میں تخریب کاری کے لیے آتش گیر کیمیکلز کا استعمال


بلوچستان میں اس سے پہلے 2016 میں فرنٹیر کور کے اہل کاروں اور 2013 میں شیعہ ہزارہ برادری پر ہونے والے خودکش حملوں میں بھی آتش گیر بارود استعمال کیا گیا تھا جس سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہوگئی تھیں۔

بلوچستان میں ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے اب خودکش حملوں اور دھماکوں کے ذریعے زیادہ سے زیادہ جانی اور مالی نقصانات پہنچانے کے لئے ایک خطرنا ک آتش گیر مادے کا استعمال شروع کردیا ہے۔

شہر ی دفاع کے شعبہ بم ڈسپوزل کے ڈپٹی ڈائریکٹر رفوجان نے وائس اف امریکہ کو بتایا کہ اسمگلر مختلف ملکوں سے بلوچستان میں دہشت گردی کے لیے خطرناک بارودی مواد لارہے ہیں۔

اسمگلنگ کی روک تھام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کو ششوں سے اب تک ہزاروں ٹن مختلف قسم کا بارودی مواد برآمد کیا گیا ان اقدامات کی بدولت اب دھماکوں اور خودکش حملوں کا تناسب بھی کافی کم ہوگیا ہے لیکن اب تخر یب کاروں نے زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کے لئے ایک خطرناک آتش گیر بارود کا استعمال شروع کردیا ہے جو رواں ماہ کے دوران پشین بس سٹاپ پر پاک فوج کے جوانوں کی گاڑی پر ہونے والے خودکش بم حملے میں بھی استعمال کیاگیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ کچھ بارود ایسا بھی ہے جو دھماکے کے ساتھ ہی آگ بھی لگا دیتا ہے اسی طرح ایک اور قسم کا بارود، سی فور میں بھی دھماکے کے بعد آگ لگانے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔

تخریب کار زیاد ہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کے لئے آج کل یہ بارود بھی استعمال کر رہے ہیں تاکہ انسانی زندگیوں اور پراپرٹی کو زیادہ تباہ کیا جائے۔

بلوچستان میں اس سے پہلے 2016 میں فرنٹیر کور کے اہل کاروں اور 2013 میں شیعہ ہزارہ برادری پر ہونے والے خودکش حملوں میں بھی آتش گیر بارود استعمال کیا گیا تھا جس سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہوگئی تھیں۔

شورش پسندی اور بد امنی کے شکار اس جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں بم ناکارہ بنانے کے شعبے کے ارکان کی تعداد چالیس ہے جن میں سے سات اہل کار حالیہ چند برسوں میں اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔

رفو جان کا کہنا ہے کہ بارودی مواد مختلف اقسام ہیں جن کے ساتھ دیگر خطرناک چیزوں کو ملا کر دہشت گرد طاقت ور دھماکے کرتے ہیں اس لئے اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ بارود کے بارے میں سب سے پہلے انسداد اسمگلنگ، سیکیورٹی اداروں، فرنٹیر کور، پولیس اور لیویز کے اہل کاروں کو تر بیت اور عوام الناس کو آگاہی فراہم کی جائے تاکہ نقصانات کم سے کم ہوں۔

انہوں نے کہا کہ بارود کاروبار کے لئے بلوچستان کی وزارت داخلہ تمام قواعد وضوابط پورے کرنے کے بعد لائسنس کا جاری کر تی ہے صوبے کے لوگ زراعت اور کان کنی کے لئے بارودی مواد کو استعمال کرتے ہیں لیکن دہشتگردی کے پے در پے واقعات کے بعد اب حالات تبدیل ہو گئے ہیں اس لئے بارود کے کاروبار کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی سطح پر مزید قانون سازی ضروری ہوگئی ہے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں بارود کا تجزیہ کرنے کے لئے کو ئی لیبارٹری نہیں ہے ۔ا س لئے پشین بس سٹاپ پر ہونے والے خودکش حملے کے شواہد لاهور فرانزک لیبارٹری سے ٹیسٹ کے لئے بھیج دیئے گئے ہیں جس کی رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے مزید بتایا کہ بلوچستان کی حکومت نے اب نئے سال کے بجٹ میں کو ئٹہ میں فرانزک لیبارٹری کے قیا م کے لئے رقم مختص کی ہے جس پر جلد ہی کام شروع ہو جائے گا۔

فرنٹیر کور بلوچستان کے ذرائع کے مطابق ادارے کے اہل کار صوبے میں ہر سال سینکڑوں ٹن بارود پکڑتے ہیں جسے بعد میں ضائع کر دیا جاتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG