رسائی کے لنکس

کینساس: پرانا ’ورک ویزا‘، بنگلہ دیشی استاد گرفتار


اُن کا ورک ویزا ختم ہو چکا تھا۔ سائنس کے استاد کو اُس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ موٹر گاڑی میں بیٹھ رہے تھے۔ اُنھیں کینساس سے ہوائی اور پھر مِزوری لے جایا گیا؛ اور اب وہ کاؤنٹی کے جیل میں بند ہیں

پچھلے ماہ، جب سے امیگریشن کے اہل کاروں نے بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے سید احمد جمال کو گرفتار کیا ہے، کینساس کی کمیونٹی نے اس اقدام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اُن کی حمایت میں احتجاج کیا ہے، جن کا کہنا ہے کہ بحیثیتِ ایک استاد اور خاندان کے سرپرست، وہ ایک عشرے سے اُنھیں جانتے ہیں۔

اُن کی رہائی کے مطالبے پر مبنی ایک آن لائن عرضی میں ایک خاتون نے لکھا ہے کہ ’’وہ ایک مثالی شہری ہیں جن کی یہاں سکونت اختیار کرنے کی کوششوں کی ہمیں حمایت کرنی چاہیے‘‘۔

ایک اور شخص نے تحریر کیا کہ ’’کاغذی کارروائی، غلط اطلاعات اور نوکر شاہی کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیئے کہ تارکین وطن برادری کو ایک ذہین، محنتی ساتھی سے محروم کر دیا جائے۔"

کینساس میں مقیم سائنس کے استاد کو اُس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ موٹر گاڑی میں بیٹھ رہے تھے۔ اُنھیں کینساس سے ہوائی اور پھر مِزوری لے جایا گیا؛ اور اب وہ کاؤنٹی کے جیل میں بند ہیں۔

وہ ایک مقامی کالج میں تدریس سے وابستہ رہے ہیں۔ وہ غیر قانونی طور پر مقیم تھے۔ اُن کا ورک ویزا ختم ہو چکا تھا۔

اُن کے ایک بھائی، سید حسین جمال نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’میرے خیال میں یہ دکھتی ہوئی رگ کا معاملہ ہے کہ کمیونٹی کے ایک باعزت شخص کو گرفتار کیا جاتا ہے، جسے سبھی جانتے ہیں‘‘۔

سید حسین جمال ماضیِ قریب میں امریکی شہری بنے ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ ’’وہ اسکول بورڈ کی رکنیت کا انتخاب لڑے۔ وہ ہمیشہ سائنس ٹیچروں کے بورڈ پر رہے ہیں۔ سارے والدین اُن کو جانتے ہیں۔ اس لیے کمیونٹی کو محسوس ہوا کہ کسی کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے، جن کے لیے ہمارے دل میں ایک نرم گوشہ اور اپنائیت ہے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG