رسائی کے لنکس

logo-print

بنگلہ دیش میں کم عمری کی شادیوں کا بڑھتا رجحان


برٹش میڈیکل جنرل کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش میں 15 سے 19 سال کی کم عمر لڑکیوں کی ایک تہائی تعداد یا تو ماں بن چکی ہوتی ہے یا پھر حاملہ ہوتی ہے۔

بنگلہ دیش میں گزشتہ چند برسوں کے دوران کم عمر لڑکیوں کی شادیوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس بیان کی تصدیق بچوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کے فنڈ (یونیسف) سے بھی ہوتی ہے جس کی ورلڈ چلڈرن رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بنگلہ دیش میں 64 فی صد لڑکیوں کی شادیاں 18 سال کی عمر سے بھی پہلے کردی جاتی ہیں۔

برٹش میڈیکل جنرل کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش میں 15 سے 19 سال کی کم عمر لڑکیوں کی ایک تہائی تعداد یا تو ماں بن چکی ہوتی ہے یا پھر حاملہ ہوتی ہے۔

حاملہ ماؤں یا پیدائش کے دوران مرنے والی کم عمر ماؤں کی تعداد بڑی عمر کی ماؤں کے مقابلے میں دگنی ہے۔ ایسی نوجوان مائیں جو 14 سال سے بھی کم ہیں، ان کے لیے خطرات بہت زیادہ ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے 'او سی ایچ اے' کے تحت کام کرنے والے خبر رساں ادارے 'انٹی گریٹیڈ ریجنل انورمیشن نیٹ ورکس' (ایرن) کی ایک رپورٹ کے مطابق ریسرچ سے بھی یہ ثابت ہوا ہے کہ 10 سے 14 سال کی ماؤں کی زچگی کے دوران موت کے خطرے کی شرح 20 سے 24 کی عمر کی ماؤں کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہے۔

چودہ سال سے کم عمر ماؤں کے بچوں کی اموات 20 سال یا اس سے بڑی عمر کی ماؤں کے بچوں سے 50 فی صد زیادہ ہے۔

ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ کم عمر ماؤں کو حمل کے دوران اور بچے کی پیدائش کے وقت صحت کے زیادہ مسائل اور پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بنگلہ دیش ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے (بی ڈی ایچ ایس) کے مطابق 10 سے 14 سال کی ماؤں کی اموات 20 سے 24 سال کی ماؤں سے پانچ گنا زیادہ ہے۔

خواتین کی ایک تہائی تعداد 20 کی عمر تک پہنچتے پہنچتے یا تو حاملہ ہوچکی ہوتی ہے یا پھر ماں بن چکی ہوتی ہے اور اس رجحان میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔

سروے کے مطابق خواتین کی شادی کی اوسط عمر سولہ اعشاریہ چار سال رہی جب کہ 'بی ڈی ایس ایچ' 2004 میں لڑکیوں کی شادی کی عمر 16.0 تھی۔

بنگلہ دیش میں شادی کی عمر سے متعلق عمر کی حد کا قانون موجود ہے لیکن کم عمری کی شادیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ صرف قانون یا پالیسیاں ہی نفاذ کی گارنٹی نہیں۔

موجودہ قانون کے مطابق لڑکوں کے لیے شادی کی عمر 21 سال اور لڑکیوں کے لیے 18 سال ہے۔

والدین محض اس خوف سے لڑکیوں کی کم عمری میں شادی کر دیتے ہیں کہ جیسے جیسے بچی کی عمر بڑھے گی، جہیز کی قیمت بھی بڑھتی جائے گی۔

نوجوان لڑکیوں کو عام طور پر اپنے خاندانوں پر معاشی بوجھ سمجھا جاتا ہے اور کم عمری میں شادی کو اس بوجھ سے چھٹکارا پانے کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ کم عمری میں شادی لڑکیوں کو جنسی ہراسگی سے بچانے اور محفوظ رکھنے کا طریقہ خیال کی جاتی ہے۔

لیکن کم عمری کی شادیوں کی وجہ سے بچیوں کی تعلیم ختم کرا کے اسکول سے اٹھالیا جاتا ہے اور کم عمری کی شادیوں کی وجہ سے بچوں کی تعداد میں اضافہ اور اس کے باعث خاندان کا سائز بھی بڑا ہوتا جاتا ہے۔

بنگلہ دیش کے International Center for Diarrhoeal Diseases and Research کے مطابق کم عمری کی شادیوں کے بہت سے سماجی اثرات ہوتے ہیں جن میں آبادی کی زیادہ شرح، ماؤں کی اموات کی بلند شرح اور یتیم بچوں کی زیادہ تعداد شامل ہیں۔

کم عمری کی شادی کی وجہ سے بنگلہ دیش میں صرف 45 فی صد بچیاں ہائی اسکول تک پہنچ پاتی ہیں اور ان میں سے بھی بہت کم پابندی سے اسکول جاتی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG