رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں بچپن کی شادیاں، ایک سنگین مسئلہ


ننھا دلہا اور ننھی دلہن

بچپن کی شادیاں بچوں کو کم سنی میں ہی ذمہ داریوں کے بوجھ تلے ڈال دیتی ہیں جسے برداشت کرنا ان کی جسمانی اور ذہنی استطاعت سے باہر ہوتا ہے۔ ا

آپ نے چھوٹے بچوں اور بچیوں کو گڑیوں سے کھیلتے اور کھیل ہی کھیل میں انہیں گڑیوں گڈوں کے والدین کا جھوٹ موٹ کا کردار ادا کرتے ہوئے اور ان کی شادیاں کرتے ضرور دیکھا ہو گا، لیکن شاید ہم میں سے بہت سوں نے ان گڑیوں جیسی بچیوں اور گڈے جیسے بچوں کوحقیقی زندگی میں والدہ یا والد بنائے جانے کی ایک فرسودہ روایت کا براہ راست مشاہدہ نہ کیا ہو جو پاکستان کے دور درا ز دیہاتوں میں آج بھی جاری ہے۔ جہاں گڑیوں جیسی بچیوں اور گڈے جیسے بچوں کی شادی کا کھیل فرسودہ روايات میں جکڑے خود ان کے اپنے والدین کھیل رہے ہیں اور اپنے معصوم بچوں پر بچپن ہی میں وہ بوجھ ڈال رہے ہیں جسے اٹھانا بڑوں کے لیے بھی انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

سندھ کے علاقے دادو کے ایک دور افتادہ گاؤں پیر بخش کی ایک بچی کبری بھی اس فرسودہ روایت کا نشانہ بن چکی ہے۔ اس کی شادی چھ سال پہلے اس وقت ہو گئی تھی جب وہ ابھی گڑیوں سے کھیل رہی تھی۔ وہ اب ایک بچی کی ماں ہے جو نرسری میں پڑ ھ رہی ہے۔

وائس آف امریکہ نے جب ٹیلی فون پر اس سے رابطہ کیا اور اسے اپنی زندگی کی کہانی سنانے کو کہا تو اس کی آنکھوں سے آنسؤوں کی بوچھاڑ شروع ہو گئی اور وہ صرف اتنا ہی کہہ سکی کہ کم عمری کی شادی سے اس کا بچپن بھی تباہ ہوا اور وہ ایک اچھی ماں بھی نہ بن سکی۔

جب کہ اس کے دیور نے اس کی کہانی مکمل کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی بھابی شادی کے بعد خاص طور پر بچی کی پیدائش کے بعد ایک نفسیاتی مریض بن گئی تھی اور وہ نہ تو اپنا خیال رکھ سکی اور نہ ہی اپنی بچی کا، کیونکہ ایک بچی بھلا کیسے کسی بچے کو پال سکتی ہے۔

اور سندھ کے دیہات جوہی کی عائشہ بھی بچپن میں شادی کی روایت کا نشانہ بنی تھی ۔اس نے وائس آف امریکہ کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ اس کے ماموں اور چچا نے وٹے سٹے کی روایت کے تحت ا س کی شادی تیرہ چودہ سال کی عمر میں زبردستی کروا دی تھی۔ شادی کےپہلے ہی سال میں وہ ایک بچے کی ماں بن گئی جس کے بعد اس کی ذہنی حالت خراب ہو گئی اور وہ نہ تو اپنا بچہ پال سکی اور نہ ہی اپنا گھر بار اور اپنی مایوس کن زندگی کے اثرات پورے خاندان کے لیے انتہائی تکلیف ثابت ہوئے۔ وہ دیہی والدین کو اس فرسودہ روایت کے خاتمے کا مشورہ دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی کم عمری میں شادیوں سے گریز کریں اور ایسے فیصلے کرتے وقت اپنے بچوں پر اس کے منفی اثرات کو ضرور ذہن میں رکھیں۔

اور اس ضمن میں حیدرآباد کے ایک سائیکیٹرسٹ اور اسریٰ یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسرمنظور جمالی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بچپن کی شادیاں بچوں کو کم سنی میں ہی ذمہ داریوں کے بوجھ تلے ڈال دیتی ہیں جسے برداشت کرنا ان کی جسمانی اور ذہنی استطاعت سے باہر ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر بہت سے اعصابی اور ذہنی امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں جن میں ڈپریشن اور بہت سے دوسرے شديد ذہنی امراض شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دیہی علاقوں میں غربت کی شکار ان بچیوں میں، جو پہلے ہی غذائیت کی قلت کا شکار ہوتی ہیں، کم عمری میں بچوں کو جنم دینے کے باعث غذائیت کی مزید قلت پیدا ہو جاتی ہے ۔ مزید برآں زچگی کے دوران بعض پیچیدگیاں کئی ایک کی اموات کی سبب بن جاتی ہیں جب کہ ان کے ہا ں جنم لینے والے بچے بھی جسمانی اور ذہنی طور پر بیمار یا معذور پیدا ہوتے ہیں ۔ جو آگے چل کر معاشرے کے لیے ایک بوجھ بن جاتے ہیں ۔

ڈاکٹر جمالی نے کہا کہ اگرچہ میڈیا اور تعلیم کی وجہ سے اور سندھ میں بچپن کی شادیوں کےخلاف بننے والے قانون کی وجہ سے اور مقامی پولیس کی بر وقت کارروائیوں کی وجہ سے اب دیہاتوں میں بچپن کی شادیوں کی شرح میں کمی ہو رہی ہے لیکن اس کے مکمل خاتمے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

سائیکٹرسٹ منظور جمالی کہتے ہیں کہ ذہنی طور پر معذور یا ذہنی بیماریوں کے شکار یہ بچے جرائم کی طرف بھی جا سکتے ہیں اور انہیں دہشت گرد تنظیمیں خود کش بمباری یا دوسرے جرائم کے لیے استعمال کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بچپن کی شادیوں کے فیصلے معاشرے میں ذہنی اور جسمانی معذور افراد کا اضافہ کر رہے ہیں اور یہ فیصلے صرف ان بچوں کی زندگیوں کو ہی نہیں بلکہ کئی نسلوں کو متاثر کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس فرسودہ روایت کو پاکستان کے دیہاتوں سے مکمل طور پر ختم کیا جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت کی جانب سے دیہی علاقوں کے لوگوں کو کم عمری کی شادیوں کے جسمانی ، نفسیاتی ،معاشی اور معاشرتی نقصانات سے آگاہی پیدا کی جائے اور اس کے لیے اسکولوں کے اساتذہ اور مساجد کے امام کی مدد حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ میڈیا کی مدد سے ان کی اپنی مقامی زبانوں میں پروگرام نشر کئے جائیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اور متعلقہ ادارے اس ضمن میں فعال کردار ادا کریں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG