رسائی کے لنکس

logo-print

سجاگ سنسار سندھ میں کم عمری کی شادیوں کے خلاف سرگرم


سجاگ سنسار تھیٹر کے ذریعے کم عمری کی شادیوں کے خلاف مہم چلا رہی ہے۔

پاکستان کے دیہی علاقوں میں بچوں کی شادی کی روایت ایک مدت سے چلی آرہی ہے جو نہ صرف ان بچوں کی زندگی کو نفسیاتی ،معاشی اور معاشرتی مسائل میں مبتلا کر نے کی وجہ بن رہی ہے بلکہ اس کی وجہ سے پورے دیہی معاشروں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں پیش آرہی ہیں ۔ اس نقصان دہ روایت کو ختم کرنے کے لیے سندھ کے علاقے دادو میں سماجی بھلائی کی ایک تنظیم سجاگ سنسار جس کا سندھی زبان میں مطلب ہے باشعور معاشرہ گزشتہ سترہ برس سے کوشاں ہے۔

اس تنظیم نے 2005 میں اقوام متحدہ کے ایڈولسنٹ گرلز ٹاسک فورس یو این اے جی ٹی ایف کی مد د سے سندھ کے ڈسٹرکٹ دادو کی 30 یونین کونسلوں میں بچپن کی شادیوں کے خلاف ایک بھر پورمہم شروع کی تھی جس کے تحت، آگاہی کی واکس، ڈسٹرکٹ لیول کے سیمینارز، تھیٹرز ڈراموں، ویلیج کمیٹیوں کی تشکیل اور ایف ایم ریڈیو اور مقامی نکاح خوانوں اور صحافیوں کے لیے تربیتی ورکشاپس اور آگاہی کے پروگراموں کا انعقاد کیا گیا جس میں مقامی منتخب نمائندوں کو شامل کیا گیا۔

کم عمری کی شادیوں کے خلاف آگاہی کے لیے واک
کم عمری کی شادیوں کے خلاف آگاہی کے لیے واک

اس ادارے کے چیف آیکزیکٹیو آفیسر معشوق برھمانی نے وائس آف امریکہ اردو سے بات کرتے ہوئے دیہی سندھ میں بچپن کی شادیوں کے مسئلے اس کےنقصانات اور اس روایت کے خاتمے کے لیے اپنے ادارےکے اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کی تنظیم مذہبی راہنماؤں صحافیوں، دیہاتی کمیونٹیز اور نکاح خوانوں کی مدد سے بچوں کی شادی کے خلاف مہم چلا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے دیہاتیوں کو بچپن کی شادیوں کے نقصانات سے آگاہی پھیلانے کے لیے تھیٹر کا سہارا لیا اور کہانیوں اور اسٹیج ڈراموں کے ذریعے یہ مشن شروع کیا جس کےلیے ایک آ ن لائن تنظیمCatapultنے ان کا ساتھ دیا جبکہ ناروے کی ایک تنظیم نارویجن نے بھی ان کو ویلیج کمیٹیاں قائم کرنے میں مدد کی۔

معشوق برہمانی نے کہا کہ سجاگ سنسار کی اینٹی چائلڈ میرج ویلیج کمیٹیاں والدین کو اپنے بچوں کی شادیاں بچپن میں نہ کرنے پر مائل کرنے کی کوششیں کرتی ہیں اور اگر ان کی کوششیں کامیاب نہ ہوں تو وہ میڈیا، انسانی حقوق اور پولیس کے مقامی اداروں کو اس کے بارے میں خبر دیتی ہیں جن کی بر وقت مداخلت ان شادیوں کو روکنے میں ایک کردار ادا کرتی ہے۔

سنجاگ سنسار کے زیر اھتمام ورک شاپ
سنجاگ سنسار کے زیر اھتمام ورک شاپ

سجاگ سنسار کی مہم کے تحت نکاح خوانوں کو نکاح کے لیے نئے قوانین و ضابطوں سے آگاہ کیا گیا ۔ سجاگ سے تربیت یافتہ جوہی کے ایک نکاح خواں حافظ محمد امین بلوچ نے وائس آف امریکہ کو ایک انٹر ویو میں بتایا کہ وہ ان ضابطوں کی روشنی میں اس وقت تک کوئی نکاح نہیں پڑھاتے جب تک وہ لڑکی اور لڑکے کا شناختی کارڈ نہیں دیکھ لیتے اور یہ پتہ نہیں چلا لیتے کہ دونوں کی عمریں اٹھارہ سال سے کم نہیں ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کہا کہ وہ مذہبی دلائل دے کر والدین کو اپنے بچوں کی شادیاں کم عمری میں کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ نکاح خوانوں کی تربیت کی وجہ سے اب ان کے علاقے میں بچپن کی شادیوں کے رجحان میں قدرے کمی آرہی ہے۔

بچپن کی شادیوں کے خلاف مہم میں سندھ کے دیہاتوں کے مقامی صحافی بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ایک مقامی صحافی وفا برہمانی نے وائس آ ف امریکہ کو بتایا کہ سجاگ سے تربیت پانے کے بعد وہ اور دوسرے مقامی صحافی پچپن کی شادیوں کے نقصان دہ اثرات کے بارے میں ٓگاہی پھیلانے کے لیے اس موضوع پر رپورٹنگ کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

سجاگ کے بانی اور سی ای او معشوق برہمانی کہتے ہیں کہ سجاگ سنسار کی جانب سے میڈیا مہم اور منتخب نمائندوں سے اس ضمن میں ہونے والی ملاقاتوں نے سند ھ اسمبلی میں بچپن کی شادیوں کے خلاف قانون کی منظوری میں اہم کردار ادا کیا جس کے تحت سندھ میں شادی کے لیے کم از کم اٹھارہ سال کی عمر کو لازمی قرار دیا گیا ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے جرمانے اور قید کی سزا متعین کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ سندھ میں بچپن کی شادیوں میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن ابھی اس پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی تنظیم اب تک سندھ میں بچپن کی 30 طے شدہ شادیاں رکوا چکی ہے ہیں جب کہ ان میں سے کچھ مجرموں کو جیل اور جرمانے تک کی سزا ہوئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG