رسائی کے لنکس

logo-print

اسپین: بارسلونا کے چرچ میں افطار اور اذان


بارسلونا کے سانتا اینا چرچ میں روزانہ پچاس سے ساٹھ افراد افطار کرتے ہیں۔(فوٹو رائٹرز)

چرچ کے نگران فادر سانشز کا کہنا ہے کہ الگ الگ ثقافتوں، زبان اور مذاہب سے تعلق رکھنے کے باوجود ہم سیاست دانوں سے بڑھ کر ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے اور بات کرنے کے قابل ہیں

اسپین کے شہر بارسلونا میں ایک کیتھولک چرچ نے مسلمانوں کے لیے رمضان میں افطار کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ہیں۔

عام طور پر مسلمان ماہِ رمضان میں عبادات اور افطار کے لیے جمع ہوتے ہیں لیکن دنیا کے دیگر ممالک کی طرح اسپین میں بھی کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے عائد کی گئی پابندیوں کے باعث بارسلونا میں بسنے والی مسلمان برادری اپنے گھروں کے اندر ہی رمضان کی عبادات اور افطار کر رہی ہے۔

اس کے علاوہ رمضان میں مختلف افراد اور سماجی تنظیمیں بھی کمیونٹی اور ضرورت مند افراد کے لیے افطار کا اہتمام کرتے ہیں۔ لیکن احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کے لیے درکار کھلی جگہ نہ ہونے کے باعث یہ سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

اس صورتِ حال میں بارسلونا کے ایک کیتھولک چرچ سانتا اینا نے اپنی عمارت کا ہوادار بڑا حصہ مسلمانوں کے لیے کھول دیا ہے جہاں روزانہ 50 سے 60 مسلمان آتے ہیں۔ چرچ میں موجود رضاکار انہیں افطار کے لیے گھر کا تیار کردہ کھانا پیش کرتے ہیں۔

سانتا اینا آنے والے مسلمانوں میں زیادہ تر بے گھر افراد ہیں۔

چرچ کے ہوادار برآمدے میں افطار کے لیے آنے والے افراد کھانا کھا رہے ہیں۔
چرچ کے ہوادار برآمدے میں افطار کے لیے آنے والے افراد کھانا کھا رہے ہیں۔

یہاں آنے والے ایک 27سالہ مراکشی باشندے حافظ ابراہیم کا کہنا ہے کہ "ہم سب ایک جیسے ہیں۔ اگر کوئی کیتھولک ہے یا کسی اور مذہب سے تعلق رکھتا ہے اور میں مسلمان ہوں تو یہ ایک عمومی بات ہے۔ ہم سب بھائیوں کی طرح ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے۔‘‘

’کیٹلان ایسوسی ایشن آف موروکن ویمن‘ نامی ایک مقامی تنظیم کی صدر فوزیہ شاتی ہر سال افطار کا اہتمام کیا کرتی ہیں۔ تاہم کرونا کے باعث اندرونِ خانہ یا انڈور ڈائننگ کے حوالے سے عائد ہونے والی پابندیوں کے باعث انہیں کسی ایسے متبادل مقام کی تلاش تھی جو ہوادار ہو اور وہاں افطار کے لیے آنے والوں کو فاصلے سے بٹھانا بھی ممکن ہو۔

چرچ میں موجود رضا کار افطار کے لیے کھانے پینے کا سامان لے جارہے ہیں
چرچ میں موجود رضا کار افطار کے لیے کھانے پینے کا سامان لے جارہے ہیں

ان کی یہ مشکل چرچ سانتا اینا کے نگران فادر پیو سانشز نے حل کر دی اور انہیں افطار کے لیے چرچ کی عمارت کا کھلا اور ہوادار حصہ استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔

فوزیہ شاتی کا کہنا ہے کہ ’’لوگ بہت خوش ہیں کہ مسلمان ایک کتھولک چرچ میں افطار کر سکتے ہیں۔ کیوں کہ مذہب ہم سب کو ملاتا۔ ایک دوسرے سے جدا نہیں کرتا۔‘‘

افطار کے بعد مسلمان چرچ کے مرکزی احاطے میں نماز بھی ادا کرتے ہیں۔

چرچ میں روزانہ پچاس سے ساٹھ افراد افطار کرتے ہیں۔
چرچ میں روزانہ پچاس سے ساٹھ افراد افطار کرتے ہیں۔

چرچ کے نگران فادر سانشز کا کہنا ہے کہ الگ الگ ثقافتوں، زبان اور مذاہب سے تعلق رکھنے کے باوجود ہم سیاست دانوں سے بڑھ کر ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے اور بات کرنے کے قابل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG