رسائی کے لنکس

logo-print

سوڈان: صدر البشیر کے دورِ اقتدار میں خواتین پر کیا گزری؟


سوڈان میں صدر البشیر کا اقتدار ختم ہونے کے باوجود خواتین کی مشکلات کم نہیں ہوئی ہیں

سوڈان میں صدر البشیر کا دورِ اقتدار 30 برسوں پر محیط تھا جس سے نجات کے لیے ملک بھر میں احتجاج ہوئے اور دھرنے دیے گئے۔

صدر البشیر کے خلاف مظاہروں میں مردوں نے تو گولیوں اور جسمانی تشدد کا سامنا کیا ہی لیکن خواتین کو مردوں سے زیادہ اذیتیں دی گئیں۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق مظاہرین کو ذہنی و جسمانی سزا دینے کے نِت نئے طریقے اپنائے گئے اور سکیورٹی اہلکاروں نے کئی خواتین کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بھی بنایا۔

خدیجہ صالح بھی اُن خواتین میں شامل ہیں جنہیں سوڈان میں صدر البشیر کے خلاف آواز اٹھانے پر ظلم و ستم برداشت کرنا پڑا تھا۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

خدیجہ صالح چھ سال بیرونِ ملک رہنے کے بعد رواں سال مارچ میں سوڈان واپس آئی تھیں اور صدر البشیر کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کا حصہ بن گئی تھیں۔ جس وقت سکیورٹی اداروں نے مظاہرین پر دھاوا بولا وہ اس وقت دارالحکومت خرطوم میں وزارتِ دفاع کے قریب ہونے والے دھرنے میں شامل تھیں۔

یہ علاقہ حکومت کے خلاف ہونے والے مظاہروں اور تحریک کا گڑھ بنا ہوا تھا۔

خدیجہ صالح کے مطابق مظاہرے کے دوران صدر البشیر کے حامیوں نے انہیں چھڑی سے بری طرح پیٹا جس سے ان کے جسم پر گہرے زخم آئے تھے جو اب تک مندمل نہیں ہو سکے۔ وہ اب بھی ان زخموں پر پٹی باندھتی ہیں۔

’رائٹرز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے خدیجہ صالح نے بتایا کہ میں اپنے ملک کا مستقبل بہتر ہوتے دیکھنا چاہتی تھی اس لیے ایک محفوظ ملک چھوڑ کر اپنے وطن سوڈان واپس آگئی تھی۔

صدر عمر البشیر کے 30 سالہ دور اقتدار کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں خواتین کا کردار بہت اہم تھا۔ خواتین کی شرکت سے مظاہروں میں تیزی آئی۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

بالآخر رواں سال اپریل میں سوڈان کی ملٹری کونسل نے صدر البشیر سے استعفیٰ لے لیا اور ان کے اقتدار کا سورج غروب ہو گیا۔

صدر البشیر کے استعفے کے باوجود سوڈان میں جاری مظاہرے ختم نہیں ہو سکے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ اقتدار سِول حکومت کے حوالے کیا جائے لیکن سوڈان کی فوج نے اس مطالبے کو دبانے کی کوشش کرتے ہوئے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا ہوا ہے۔

مظاہروں میں شریک ہونے والی سوڈان کی ایک اور خاتون ناہید گبرالا کے مطابق انہیں مظاہروں میں شرکت کرنے پر فوجیوں نے نہ صرف مارا پیٹا بلکہ ان کے ساتھ زیادتی کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ انہیں رواں سال 3 جون کو ملٹری نے حراست میں لیا تھا۔

انہوں نے ملکی حالات میں تبدیلی لانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حالات میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے۔ "ہم سوڈان میں جمہوریت کے قیام اور اپنے حقوق کے لیے لڑائی جاری رکھیں گے۔"

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک امریکی ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ سوڈان میں جاری مظاہروں کے دوران خواتین کی عصمت دری کی گئی اور ان پر جنسی تشدد کیا گیا۔

خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم مقامی خواتین نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ فوجی خواتین کے زیر جامے کھمبوں پر علامتی طور پر ٹانگ دیا کرتے تھے تاکہ یہ بتا سکیں کہ انہوں نے خواتین کو جنسی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق خواتین کی عصمت دری کے الزامات کی آزاد ذرائع سے تصدیق کرنا ممکن نہیں جب کہ ملٹری کونسل کے ترجمان نے بھی خواتین کی بے حرمتی کی خبروں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم کونسل کی طرف سے اس سے قبل ایسے واقعات کی تردید کی جاتی رہی ہے۔

صدر البشیر کے دور میں خواتین کے لیے سوڈان کی حکومت نے سخت قوانین بنا رکھے تھے۔ پینتیس سالہ ماہی ابا یزید کہتی ہیں کہ مظاہروں میں جب وہ ٹراؤزر پہن کر شرکت کرتیں تو انہیں ایسے کپڑے پہننے پر مارا جاتا تھا۔

ان کے بقول میرے بازو میں گولی لگی تھی اور خون بہہ رہا تھا لیکن اس کے باوجود مجھے میرے لباس کی وجہ سے مارا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG