رسائی کے لنکس

’چین معاشی ترقی کرے لیکن بین الاقوامی اصولوں کے مطابق‘


امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے نئی دہلی میں جی ٹوئنٹی اجلاس میں چین کے وزیرِ اعظم سے ملاقات کی اور کہا ہے کہ وہ روابط میں 10 ماہ کے وقفہ آنے کے بعد بھی چینی ہم نصب شی جن پنگ سے ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ویت نام کے دارالحکومت ہنوئی میں وائس آف امریکہ کی نمائندہ کے سوال کے جواب میں صدر بائیڈن نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ میری ٹیم، میرا عملہ اب بھی صدر شی کی کابینہ سے ملاقات کرتا ہے۔ حقیقت میں، میں نے آج بھارت میں ان کے نمبر ٹو شخص (وزیرِ اعظم) سے ملاقات کی۔

بائیڈن نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ اگر میں شی کے ساتھ ذاتی طور پر بات نہ کروں تو کوئی بحران ہے۔ یہ بہتر ہوگا اگر میں کروں۔ مجھے امید ہے کہ جلد ہی ان سے دوبارہ ملوں گا۔

خیال رہے کہ چین کے صدر نے نئی دہلی میں ہونے والی جی ٹوئنٹی کے سربراہی اجلاس میں خود شرکت نہیں کی۔

اجلاس میں وزیرِ اعظم لی چیانگ نے چین کی نمائندگی کی۔

لی چیانگ کے ساتھ ملاقات کے بارے میں امریکی صدر نے مزید کہا کہیہ بالکل بھی تصادم والی ملاقات نہیں تھی ۔

بائیڈن نے مزید بتایا کہ انہوں نے استحکام کے بارے میں بات کی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ ترقی پذیر دنیا کو تبدیلی تک رسائی حاصل ہو۔

بائیڈن نے چینی صدر کے حوالے سے نوٹ کیا کہ شی جن پنگ کے ابھی ہاتھ بھرے ہوئے ہیں۔ ان کو نوجوانوں کی بہت زیادہ بے روزگاری کا سامنا ہے۔

بائیڈن نے کہا کہ چینی معیشت کا ایک بڑا شعبہ رئیل اسٹیٹ زوال پذیر ہے۔

امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ چینی معاشی نمو کو روکنا نہیں چاہتا۔ ان کے بقول ’’میں چین کو معاشی طور پر کامیاب دیکھنا چاہتا ہوں۔ لیکن میں انہیں بین الاقوامی اصولوں کے مطابق کامیاب دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ چین کی معیشت، جو امریکہ کے بعد دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے، بین الاقوامی ترقی کی نمو میں کمی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے۔

ان کے بقول وہ نہیں سمجھتے کہ اس کی وجہ سے تائیوان پر کو ئی مسلح تصادم ہوگا۔

تائیوان ایک خود مختار علاقہ ہے جسے چین اپنا حصہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔

بائیڈن نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا ک چین تائیوان پر حملہ کرے گا۔ ان کے مطابق اس کے برعکس درحقیقت (اس کے پاس) شاید وہ صلاحیت نہیں ہے جو اس سے پہلے تھی۔

یاد رہے کہ بائیڈن حکومت کے کئی وزرا نے حال ہی میں اپنے ہم منصبوں سے ملاقاتوں کے لیے بیجنگ کے دورے کیے ہیں۔

امریکہ اور چین کے درمیان حال ہی میں تجارت، تائیوان کے قریب بحری گشت اور اس سال کے شروع میں امریکی فضا میں چین کے جاسوسی غبارے کی پرواز کے حوالے سے تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔

بائیڈن نے چینی غبارے کو بحر اوقیانوس کے اوپر سے نیچے گرانے کا حکم دیا جب یہ امریکی مشرقی سمندری حدود تک پہنچا تھا۔ غبارے نے امریکہ کی حساس فوجی تنصیبات سمیت تمام حصوں پر پرواز کی تھی ۔

علاوہ ازیں چین نے امریکی وزیر تجارت جینا ریمنڈو کے حالیہ دورہٴ بیجنگ سے قبل ان کی ای میلز کو ہیک بھی کیا تھا۔

فورم

XS
SM
MD
LG