رسائی کے لنکس

logo-print

بریگزٹ پر 'بگ بین' کی گھنٹی بجانے کا مطالبہ


فائل فوٹو

برطانیہ کے قانون سازوں نے مطالبہ کیا ہے کہ برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کا اعلان 31 جنوری کی نصف شب 'بگ بین' کی گھنٹی بجا کر کیا جائے۔

برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے حامی ارکانِ پارلیمان نے بریگزٹ سے متعلق قانون سازی میں 'بگ بین' سے متعلق ترمیم تجویز کی ہے۔

یہ ترمیم منگل کو ایوان میں پیش کی گئی لیکن اسے ایجنڈے میں شامل نہیں کیا گیا۔ البتہ ماہرین کے مطابق اس ترمیم کو منظور کرانے کے اور بھی ذرائع موجود ہیں۔

گزشتہ ماہ ہونے والے انتخابات میں وزیر اعظم بورس جانسن کی جماعت 'کنزرویٹو پارٹی' بھاری اکثریت سے کامیابی کے بعد غالب امکان ہے کہ برطانیہ 31 جنوری کو یورپی یونین سے الگ ہو جائے گا۔

پارلیمان میں بگ بین سے متعلق ترمیم پیش کرنے والے برطانوی رُکن پارلیمان مارک فرانسیس نے اپنے ایک کالم میں کہا ہے کہ چاہے برطانیہ یورپی یونین سے الگ ہو یا نہ ہو، یہ ملکی تاریخ کا اہم واقعہ ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ "یہ ہمارے لیے کسی آزادی کے موقع کی طرح ہی ہو گا۔ لہذٰا بگ بین کی گھنٹی بجا کر ہمیں خوشی منانی چاہیے۔"

ان کے بقول انہیں 50 اراکین پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہے جو چاہتے ہیں کہ اس اہم موقع پر 'بگ بین' کی گھنٹی گونجے۔ ترمیم کے مسودے پر 40 سے زائد اراکین پارلیمنٹ کے دستخط موجود ہیں جن میں اکثریت کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والوں کی ہے۔

بگ بین ہے کیا؟

مرکزی لندن میں برطانوی پارلیمان کے قریب نصب تاریخی 'بگ بین' کلاک ٹاور کا نام 2012 میں الزبتھ ٹاور رکھ دیا گیا تھا۔ نام کی یہ تبدیلی برطانیہ کی ملکہ الزبتھ کی تخت نشینی کی 60 ویں سال گرہ پر کی گئی تھی۔

زمین سے 320 فٹ یا 98 میٹر بلند اس ٹاور کو 19 ویں صدی میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کے منفرد فنِ تعمیر کے باعث یہ ٹاور دنیا بھر میں مقبول ہے۔ اس گھڑی کی گھنٹی کا کل وزن ہی 14 ٹن کے لگ بھگ ہے۔

دو سال سے یہاں تعمیراتی کام جاری ہے۔ جس کی وجہ سے بگ بین کی گھنٹی صرف سالِ نو، کرسمس اور ایسے ہی دیگر خاص خاص مواقع پر پر ہی بجائی جاتی ہے۔

الزبتھ ٹاور نہ صرف برطانیہ بلکہ سیاحوں کے لیے بھی پرکشش مقام سمجھا جاتا ہے۔ 2017 میں یہاں تعمیر و مرمت کے کام کا آغاز ہوا تھا جو 2021 میں مکمل ہو گا۔

اس دوران کسی خاص موقع پر گھنٹی بجانے کے لیے ریہرسل کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ برطانیہ کے یورپی یونین سے الگ ہونے کا معاملہ 2016 سے التوا کا شکار ہے۔ اُس سال ہونے والے ریفرنڈم کے نتیجے میں برطانیہ نے یورپی یونین سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔

لیکن یورپی یونین سے الگ ہونے کی شرائط پر اتفاق رائے نہ ہونے سے یہ معاملہ گزشتہ چار سال سے التوا کا شکار اور برطانیہ کی سیاست میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG