رسائی کے لنکس

logo-print

بڑے اداکار جو کبھی آسکر ایوارڈ نہ حاصل کر پائے


آسکر ایوارڈ حاصل کرنا کسی بھی اداکار کی زندگی کا سب سے بڑا خواب ہوتا ہے۔ اس کے لیے تمام اداکار محنت سے اپنا کام کرتے ہیں اور چھوٹے سے کردار کو بھی یادگار بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

لیکن کچھ اداکاروں کو عشروں کی محنت اور بعض اوقات کئی بار نامزدگی ملنے کے باوجود ایوارڈ کا حق دار قرار نہیں دیا جاتا۔ اس کا سبب کبھی کسی دوسرے اداکار کی غیر معمولی کارکردگی بن جاتی ہے اور کبھی محض بدقسمتی آڑے آجاتی ہے۔

ہالی ووڈ کی فلموں کے شائقین کے لیے یہ بات حیرت کا باعث ہے کہ چارلی چپلن، کلنٹ ایسٹ ووڈ، رچرڈ برٹن، پیٹر او ٹول، ٹام کروز، جانی ڈیپ، ہیریسن فورڈ، کرک ڈگلس اور مائیک ڈیمن جیسے بڑے ناموں کو کبھی بہترین اداکار کا آسکر نہیں ملا۔

پیٹر او ٹول کو دنیا فلم لارنس آف عریبیا کے مرکزی کردار کی حیثیت سے جانتی ہے۔ اسے بہت سے فلمی ناقدین ہالی ووڈ کی بہترین فلموں میں شمار کرتے ہیں۔ 1962 میں ریلیز ہوئی اس فلم کو آسکر کے دس شعبوں میں نامزد کیا گیا اور سات میں ایوارڈ سے نوازا گیا۔ لیکن پیٹر اوٹول ناکام رہے۔ اس سال گریگری پیک کو ٹو کل اے موکنگ برڈ کی پرفارمنس پر ایوارڈ کا حق دار سمجھا گیا تھا۔

پیٹر او ٹول کا مومی مجسمہ لارنس آف عریبہ کے کردار میں
پیٹر او ٹول کا مومی مجسمہ لارنس آف عریبہ کے کردار میں

پیٹر او ٹول اس کے بعد بیکٹ، دا لائن ان ونٹر، گڈ بائے مسٹر چپس، دا رولنگ کلاس، دا اسٹنٹ مین، مائی فیورٹ ائیر اور وینس کے لیے نامزد کیے گئے۔ لیکن ایوارڈ نہ جیت سکے۔ بہرحال ان کی اشک شوئی اس طرح ہوئی کہ انھیں 2002ء میں اعزازی آسکر سے نواز دیا گیا۔

پیٹر او ٹول آٹھ بار نامزد ہوئے لیکن کلنٹ ایسٹ ووڈ کو ان سے بھی زیادہ یعنی گیارہ نامزدگیاں ملیں۔ لیکن ان میں صرف دو بار ان فورگیون اور ملین ڈالر بے بی کے لیے وہ بطور اداکار نامزد ہوئے۔ انھیں ناکامی کا اس لیے افسوس نہیں ہوا ہوگا کہ ان ہی دونوں فلموں کے لیے وہ بہترین فلمساز اور ڈائریکٹر کے ایوارڈ جیتنے میں کامیاب رہے تھے۔

فلم قلوپطرہ میں مارک انٹونی کا کردار نبھانے والے اور اس کی ہیروئن الزبتھ ٹیلر سے حقیقی زندگی میں دو بار شادی کرنے والے رچرڈ برٹن سات فلموں کے لیے نامزد ہوئے۔ لیکن ایوارڈ سے محروم ہی رہے۔ انھیں مائی کزن ریشل، دا روب، بیکٹ، دا اسپائی ہو کیم ان فرو مدا کولڈ، ہوز افریڈ آف ورجینیا وولف، این آف دا تھاؤزینڈ ڈیز اور ایکوئس کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔

عظیم کامیڈین اور فلمساز چارلی چپلن کو بھی کبھی اداکاری کا آسکر ایوارڈ نہیں ملا۔ انھیں 1929 اور 1972 میں اعزازی ایوارڈز دیے گئے اور ایک ایوارڈ انھوں نے فلم لائم لائٹ کے اسکور کے لیے جیتا لیکن کبھی بہترین اداکار کا ایوارڈ نہیں جیتا۔ درحقیقت انھیں 1929 میں نامزد کیا گیا تھا لیکن اکیڈمی نے بعد میں ان کا نام ہٹادیا اور اعزازی ایوارڈ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اتنے بڑے اداکار ہیں کہ ان کا دوسروں سے کوئی مقابلہ نہیں۔

چارلی چپلن
چارلی چپلن

بورن فرنچائز اور اوشن ٹریلوجی کی وجہ سے مشہور میٹ ڈیمن کو پانچ بار اکیڈمی ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ ان میں سے گڈ ول ہنٹنگ، انوکٹس اور دا مارشن کے لیے تین نامزدگیاں اداکاری کے شعبے میں تھیں لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکے۔ البتہ انھیں گڈ ول ہنٹنگ کا اسکرین پلے لکھنے پر ایوارڈ ضرور ملا تھا۔

حال میں انتقال کرنے والے کرک ڈگلس کو تین بار بہترین اداکار کے لیے نامزد کیا گیا تھا لیکن وہ ایوارڈ نہ جیت سکے۔ 1996 میں انھیں اعزازی آسکر سے نوازا گیا تھا۔

پائریٹ آف دا کیریبئن کے ہیرو جانی ڈیپ تین بار، مشن امپوسیبل میں مرکزی کردار نبھانے والے ٹام کروز بھی تین بار اور اسٹار وارز اور انڈیانا جونز کے لیے مشہور ہیریسن فورڈ ایک بار آسکر کے لیے نامزد کیے جاچکے ہیں لیکن کبھی ایوارڈ حاصل نہیں کرپائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG