رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت میں لاک ڈاؤن 4.0 کا آغاز، ایک روز میں سب سے زیادہ کیسز بھی رپورٹ


بھارت میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 96 ہزار 196 تک پہنچ چکی ہے۔ (فائل فوٹو)

بھارت میں لاک ڈاؤن کے 4.0 مرحلے کا آغاز ہو گیا ہے۔ اسی کے ساتھ بھارت میں ایک روز کے دوران کرونا وائرس کے اب تک کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

بھارت میں پیر کو کرونا وائرس کے 5242 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جو ایک روز کے دوران رپورٹ ہونے والے کیسز کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

بھارت کی وزارتِ صحت کی جانب سے پیر کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 96 ہزار 196 تک پہنچ چکی ہے۔ اس وبا سے بھارت میں اب تک 3029 افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

مرکزی حکومت نے اتوار کو ملک بھر میں لاک ڈاؤن میں دو ہفتوں کی توسیع کر دی تھی۔ کرونا وائرس کی وبا کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے پابندیوں میں یہ تیسری مرتبہ توسیع کی گئی ہے۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی نے لاک ڈاؤن کے اس مرحلے کو لاک ڈاؤن 4.0 کا نام دیا ہے جس کے تحت متاثرہ علاقوں کی نشاندہی کرنا اور انہیں اس کے مطابق گرین، اورنج یا ریڈ زون قرار دینا ریاستوں کی صوابدید ہو گی۔

تاہم مرکزی حکومت نے ریاستوں کو کہا ہے کہ فلائٹس، میٹرو سروس، مالز، جم، سنیما اور بڑے اجتماعات پر پابندی بدستور برقرار رہے گی۔ البتہ دیگر کاروباری سرگرمیوں کی بحالی کے فیصلے کا اختیار ریاستوں کے پاس ہو گا۔

یاد رہے کہ بھارت کی مرکزی حکومت نے کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں کو ریڈ زون قرار دیا تھا جہاں نقل و حرکت اور کاروبار پر پابندی تھی۔ اسی طرح اورنج زون کرونا سے کم متاثر اور گرین زون کرونا سے محفوظ علاقے تصور کیے گئے تھے۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی کے لاک ڈاؤن کے 4.0 مرحلے کے مطابق ریاستوں کو یہ اختیار ہو گا کہ کرونا سے متاثرہ کس علاقے کو ریڈ، گرین یا اورنج زون کا درجہ دینا ہے۔

لاک ڈاؤن 4.0 کے تحت ریاست کے اندر یا ریاستوں کے درمیان مسافر گاڑیوں اور بسوں کو چلانے سے متعلق فیصلہ سازی کا اختیار بھی ریاست کا ہو گا۔

اسی طرح اسٹیڈیم اور اسپورٹس کمپلیکس کو کھولنے کی اجازت ہو گی تاہم تماشائیوں کے داخلے پر پابندی ہو گی۔

نئے طرز کے لاک ڈاؤن میں ریڈ زون میں بھی تمام ضروری و غیر ضروری اشیا آن لائن منگوائی جا سکیں گی۔ حجام کی دکانیں کھولنے کی اجازت ہو گی جب کہ رکشہ اور ٹیکسیوں کو بھی ریڈ زون میں جانے کی اجازت ہوگی۔

لاک ڈاؤن 3.0 کی طرح لاک ڈاؤن 4.0 میں بھی تمام مسافر ٹرینیں بند رہیں گی۔

دارالحکومت نئی دہلی کے وزیرِ اعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کی نئی گائیڈ لائنز اسی طرز کی ہیں جس کی تجویز نئی دہلی کی حکومت نے دی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاک ڈاؤن سے متعلق نئی دہلی کی حکومت پیر کو تفصیلی منصوبہ پیش کرے گی۔

یاد رہے کہ بھارت کی ریاست مہاراشٹرا کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ہے جہاں اب تک 33 ہزار سے زائد کیسز اور 1198 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔ دارالحکومت نئی دہلی میں بھی کرونا مریضوں کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG