رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت میں آسمانی بجلی گرنے اور طوفان سے 100 سے زیادہ افراد ہلاک


فائل

بھارت کی ریاست بہار کے مختلف علاقوں میں جمعرات کو آسمانی بجلی گرنے اور طوفان باد و باراں کے نتیجے میں 80 سے زائد افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے۔ گوپال گنج ضلع میں سب سے زیادہ 13 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ادھر ریاست اترپردیش میں 24 افراد ہلاک ہوئے۔ زیادہ تر اموات دیوریا ضلع میں ہوئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ہلاک شدگان کے لواحقین کے لیے چار چار لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے۔

دہلی سمیت شمالی بھارت میں مون سون کی آمد پر مختلف مقامات پر جمعرات کے روز زبردست بارشیں ہوئیں اور تیز ہوائیں چلیں۔ دہلی میں بھی متعدد مقامات پر موسلا دھار بارش ہوئی۔

خبر رساں ادارے، پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کے مطابق، بہار میں ہلاک ہونے والوں میں بیشتر افراد کھیتوں میں کام کر رہے تھے کہ وہ آسمانی بجلی کی زد میں آگئے۔

بہار حکومت نے جمعرات کی شام کو بتایا کہ 83 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اس نے ضلع وار تفصیل بھی جاری کی ہے۔

ایک ہی روز میں اتنی زیادہ اموات کی خبر پر وزیر اعظم نریندر مودی نے اظہار افسوس کیا اور ایک ٹویٹ پیغام میں کہا کہ ”بہار اور اترپردیش کے کئی اضلاع میں آسمانی بجلی اور شدید بارشوں کی وجہ سے متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ریاستی حکومتیں امدادی کام میں تیزی سے مصروف ہیں۔ میں ہلاک شدگان کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار تعزیت کرتا ہوں“۔

بہار میں ڈزاسٹر مینجمنٹ کے پرنسپل سکریٹری، پرتایا امرت نے ایک بیان میں کہا کہ گوپال گنج میں 13، مدھوبنی اور نوادہ میں آٹھ آٹھ، سیوان اور بھاگلپور میں چھ چھ، مشرقی چمپارن، دربھنگہ اور بانکہ میں پانچ پانچ، کھگڑیا اور اورنگ آباد میں تین تین، مغربی چمپارن، کشن گنج، جہان آباد، جموئی، پورنیہ، سپول، بکسر او رکیمور میں دو دو اور سمستی پور، شیوہر، سارن، سیتا مڑھی اور مدھے پورہ میں ایک ایک شخص کی ہلاکت ہوئی ہے۔

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے عوام سے اپیل کی کہ وہ خراب موسم میں حفاظتی ضابطوں اور ڈزاسٹر مینجمنٹ کی جانب سے وقتاً فوقتاً جاری کی جانے والی ہدایتوں کی پابندی کریں۔

ریاستی سکریٹریٹ نے کہا ہے کہ اس طوفان میں جن لوگوں کے جانور ہلاک ہوئے ہیں ان کو بھی امدادی رقم دی جائے گی۔

گوپال گنج سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، وہاں ہلاک ہونے والے تمام افراد کاشتکار تھے اور جس وقت آسمانی بجلی گری ہے وہ کھیتوں میں کام کر رہے تھے۔

گوپال گنج کے صدر اسپتال میں جہاں زخمیوں کو علاج کے لیے لے جایا گیا تھا زبردست افراتفری دیکھی گئی۔ پورا ایمرجنسی وارڈ بھرا ہوا تھا۔ لواحقین کی جانب سے ہنگامہ کیا گیا۔ لیکن سینئر میڈیکل اہلکاروں کی مداخلت سے معاملے کو قابو میں کیا گیا۔

مدھوبنی میں ہلاک ہونے والے آٹھ افراد میں سے چار ایک ہی گھر کے ہیں، جبکہ کھگڑیا میں ایک خاتون کی موت ہوئی اور چار بچے زخمی ہوئے۔

سوگولی پولیس تھانے کے اسٹیشن ہاوس آفیسر متھلیش کمار کے مطابق زخمیوں کا مقامی اسپتال میں علاج چل رہا ہے اور ہلاک شدگان کی لاشیں صدر اسپتال بھیج دی گئی ہیں۔

گزشتہ سال بھی بہار میں مون سون کے دوران آسمانی بجلی گرنے سے 39 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG