رسائی کے لنکس

logo-print

دو ہزار ارب پتی دنیا کی 60 فی صد آبادی سے زیادہ دولت مند


غربت میں کمی کے لیے کام کرنے والی ایک عالمی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا کے 2153 ارب پتی افراد کے پاس موجود دولت دنیا کی 60 فی صد آبادی کی مجموعی دولت سے زیادہ ہے۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق برطانوی تنظیم 'آکسفیم' کا کہنا ہے کہ دنیا کے ارب پتی افراد میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران دگنا اضافہ ہوگیا ہے​

آکسفیم کے مطابق لڑکیوں اور خواتین کو سب سے زیادہ غربت کا سامنا ہے۔ دنیا بھر کی خواتین کو مجموعی طور پر 12 ارب 50 کروڑ گھنٹے یومیہ بغیر معاوضے کے کام کرنا پڑتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ان گھنٹوں کا معاوضہ 10 ہزار 800 ارب ڈالر سالانہ بنتا ہے۔

آکسفیم کی عالمی عدم مساوات سے متعلق سالانہ رپورٹ منگل کو اکنامک فورم کے افتتاح کے موقع پر جاری کی گئی۔

'اے ایف پی' کے مطابق آکسفیم کے بھارتی سربراہ امیتابھ بہار کا کہنا ہے کہ ہماری کمزور معیشتیں عام آدمی اور خواتین کے خرچوں پر ارب پتی افراد اور بڑے تاجروں کی جیبیں بھر رہی ہیں۔ اس میں حیرت کی بات کوئی نہیں کہ لوگ ارب پتیوں کی موجودگی کے جواز سے متعلق سوالات کر رہے ہیں۔

سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیوس میں آکسفیم کے تحت جاری سالانہ اکنامک فورم میں موجود امتیابھ بہار نے مزید کہا کہ عدم مساوات کے خاتمے کے بغیر امارت اور غربت کی درمیانی خلیج کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

امیتابھ کا کہنا تھا کہ دنیا کے 22 امیر ترین مردوں کے پاس افریقہ کی تمام خواتین سے زیادہ دولت ہے۔

انہوں نے کہا کہ غربت کا سب سے زیادہ بوجھ لڑکیوں اور عورتوں پر پڑتا ہے۔

آکسفیم کے اعداد و شمار کے مطابق پوری دنیا میں 42 فی صد خواتین بے روزگار ہیں۔ ان میں سے اکثر کے پاس تعلیم حاصل کرنے کے لیے وقت میسر نہیں ہے اور ان کی مالی حیثیت بھی اچھی نہیں۔

آکسفیم کے اعداد و شمار 'فوربس میگزین' اور 'سوئس بینک کریڈٹ سوئس' کے اعداد و شمار پر مبنی ہیں لیکن ان سے کچھ معاشی ماہرین نے اختلاف کیا ہے۔

تعداد کے مطابق صرف 2153 ارب پتی افراد کے پاس دنیا کے چار ارب 60 کروڑ غریبوں کی مجموعی دولت سے زیادہ سرمایہ ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر دنیا کے صرف ایک فی صد امیر ترین افراد اپنی دولت پر 10 سال تک صرف اعشاریہ پانچ فی صد اضافی ٹیکس ادا کریں تو اس سے بزرگوں اور بچوں کی دیکھ بھال، ان کی تعلیم اور صحت کے شعبے میں 11 کروڑ 70 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے درکار سرمایہ کاری کی کمی دور ہو سکتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG