رسائی کے لنکس

بوئنگ کا 737 میکس طیاروں کی تیاری معطل کرنے کا اعلان


فائل فوٹو

طیارہ ساز کمپنی بوئنگ نے بوئنگ 737 میکس ساخت کے طیاروں کی تیاری کا عمل جنوری سے روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سب سے زیادہ فروخت ہونے والے ان بوئنگ طیاروں کو گزشتہ سالوں کے دوران دو حادثات کے باعث حفاظتی نظام سے متعلق تنقید کا سامنا تھا۔

ان حادثوں کے باعث امریکہ سمیت دنیا کے متعدد ممالک نے یہ طیارے گراؤنڈ کر دیے تھے۔

البتہ کمپنی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پروڈکشن کی عارضی معطلی کے باوجود بوئنگ 737 کے لگ بھگ 12 ہزار ملازمین میں سے کسی کو نوکری سے برخاست نہیں کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ بوئنگ کمپنی میکس 737 طیارے امریکی ریاست واشنگٹن کے شہر سیاتل میں تیار کرتی ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ کمپنی کے اس اقدام سے عالمی سطح پر طیاروں کی ترسیل اور امریکی معیشت پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

امریکہ کے وفاقی ایوی ایشن انتظامیہ (ایف اے اے) کی جانب سے جنوری 2020 سے قبل طیاروں کو دوبارہ اڑن بھرنے کی اجازت نہ دینے کے بعد بوئنگ کی دو روزہ بورڈ میٹنگ کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ رواں سال مارچ سے ہی دنیا کی متعدد ایئر لائنز نے بوئنگ 737 میکس طیارے گراؤنڈ کر دیے تھے۔ یہ اقدام ملائشیا اور ایتھوپین ایئر لائنز کو پیش آنے والے دو حادثات میں 346 افراد کی ہلاکت کے بعد اٹھایا گیا تھا۔

ایک تخمینے کے مطابق اس کے بعد بوئنگ کمپنی کو اب تک نو ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ ایوی ایشن حکام کا کہنا ہے مذکورہ فیصلے سے عالمی سطح پر اتنے اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ کیوں کہ بہت سی ایئر لائنز پہلے ہی یا تو پروازیں منسوخ کر چکی ہے یا متبادل طیارے لیز پر حاصل کر چکی ہیں۔

البتہ ان حادثات کے بعد عالمی سطح پر بوئنگ 737 میکس طیارے گراؤنڈ ہونے اور ان طیاروں کے سیفٹی ریکارڈ پر بحث جاری ہے۔ علاوہ ازیں حادثے کا شکار ہونے والوں کے لواحقین معاوضوں کے بھی مطالبات کر رہے ہیں جبکہ کمپنی کے ایف اے اے کے ساتھ تعلقات بھی تناؤ کا شکار ہیں ہے۔

بوئنگ ماہانہ 42 طیارے تیار کرتی ہے جبکہ طیاروں کے پرزہ جات مختلف کمپنیوں سے خریدے جاتے ہیں۔ مختلف ممالک نے یہ طیارے خریدنے کے آرڈر دے رکھے ہیں۔ لیکن ریگولیٹرز کی جانب سے پرواز کی اجازت نہ ملنے پر ان طیاروں کی ترسیل التوا کا شکار ہے۔

بوئنگ حکام کا کہنا ہے کہ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ طیارہ سازی کب تک تعطل کا شکار رہے گی۔ تاہم بعض حکام کا کہنا ہے کہ یہ وفاقی ایوی ایشن انتظامیہ (ایف اے اے) پر منحصر ہے کہ وہ کب اس طیارے کو پرواز کے قابل قرار دیتی ہے۔

ایف اے اے حکام کا کہنا ہے کہ وہ بوئنگ کے اس فیصلے پر تبصرہ نہیں کریں گے۔ البتہ وہ عالمی ریگولیٹرز کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ بوئنگ میکس 737 پرواز کے لیے محفوظ طیارہ ہے اور اس ضمن میں حفاظتی اقدامات سے متعلق سفارشات بوئنگ کو دی جائیں گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG