رسائی کے لنکس

logo-print

ملک، دہشت گردی کے موضوع پر بالی وڈ کی ایک نئی فلم


بالی وڈ کی نئی فلم ’ملک‘ کا ایک منظر

3 اگست کو بالی وڈڈ فلم ؛ملک ؛ ریلیز ہونے جارہی ہے۔ ریلیز ہونے سے قبل اس فلم کے ٹریلر پر مختلف لوگوں کی طرف سے ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا ہے ۔

یہ فلم بھارت میں موجود ایک ایسے خاندان کے گرد گھومتی ہیں جو شہر میں ایک دہشت گرد حملہ کرنے کا منصوبہ بناتا ہے۔

فلم کے ڈائریکٹر انو ابھوسہنا ہیں جبکہ اس کی کا سٹ میں رشی کپور ، تاپسی پنوں ، نینا گپتا ، راجات کپور ، منوج پاہوا، کمود مشرا ، اور کئی دوسرے اداکار شامل ہیں۔

ڈائریکٹر انو بھو سہنا نے وائس اف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے کچھ برسوں میں کچھ ہیڈ لائنز ایسی تھی جو پریشان کر رہی تھیں۔ جنہوں نے مجھے متاثر کیا کہ ان ہیڈ لائنز پر کچھ بنایا جائے ۔ تو یہ فلم انہی ہیڈ لائنز پر بنی۔ جو کہ ایک کورٹ روم ڈرامہ ہے۔ ایک کیس کورٹ روم میں زیر بحث ہوتا ہے جو کہ ہم سب کے بارے میں ہیں۔

فلم ملک میں عدالت کا ایک منظر
فلم ملک میں عدالت کا ایک منظر

انہوں نے کہا کہ میں فلم کی کہانی کے بارے میں زیادہ نہیں بتاؤں گا۔ میں چاہتا ہوں کہ لوگ اسے جا کر دیکھیں۔

دوسری طرف لوگوں نے اس فلم کے بارے میں سوشل میڈیا پر اپنی رائے کا اظہار کیا ، جبکہ کچھ نے اس فلم کا بائیکاٹ کیا، بعض نے اس موضوع پر فلم بنانے کو سراہا ۔ فی لحال فلم کے متعلق لوگوں کا رجحان ملا جلا ہے۔

انو بھو سہنا کا مزید کہنا تھا کہ اس فلم میں میرا مقصد یہ بتانا ہے کہ ہم سب چاہے کسی بھی ذات سے تعلق رکھتے ہوں۔ ہمارا دھرم کوئی بھی ہو، چاہے ہم کوئی بھی زبان بولتے ہوں، ہم سب ایک دوسرے کا خیال کس طرح رکھ سکتے ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ خوشی اور غم میں کس طرح شریک ہو سکتے ہیں۔

فلم ملک کا ایک منظر
فلم ملک کا ایک منظر

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا فلموں سے معاشرے میں موجود لوگوں کی سوچ کو بدلا جاسکتا ہے؟

تو ان کا کہنا تھا کہ فلموں سے لوگوں کی سوچ میں تبدیلی نہیں لا ئی جا سکتی بلکہ فلموں سے کچھ سوال کھڑے کئے جا سکتے ہیں جن کے جواب ناظرین ڈھونڈنے کی کوشش کریں۔ اس سے شاید ان کے نظریے اور سوچ میں کچھ فرق آئیے۔ ورنہ فلمیں سماج کو نہیں بدل سکتیں۔ فلموں میں اتنی طاقت نہیں۔ سماج کو سماج خود بدلتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان بہت اچھا رشتہ ہے لیکن بہت سارے ایسے حادثات ہوتے ہیں جو سیاسی مفادات کے لئے کرائے جاتے ہیں اور اس میں کئی بار کمزور لوگ بھٹک جاتے ہیں۔ عام طور پر ہندوستان میں مسلمان اور ہندو ایک دوسرے کے ساتھ خوشی سے رہ رہے ہیں۔

اس سے پہلے بھی بالی ووڈ میں اسی طرح کے موضوعات پر فلمیں بن چکی ہیں اور ان کی وجہ سے فلم ڈائریکٹر وں کو مختلف مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ تاہم انو بھوا کے مطابق ٹریلر کی ریلیز پر انہیں لوگوں کی طرف سے اچھا رد عمل ملا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG