رسائی کے لنکس

آخری سانس تک چرچل کے مجسمے کی حفاظت کروں گا: بورس جانسن


فائل فوٹو

برطانیہ کے وزیرِ اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ وہ آخری سانس تک لندن میں پارلیمنٹ اسکوائر پر نصب سابق وزیرِ اعظم ونسٹن چرچل کے مجسمے کی حفاظت کریں گے۔

بورس جانسن کا یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب نسلی امتیاز کے خلاف امریکہ سے شروع ہونے والے مظاہرے برطانیہ تک پہنچ گئے ہیں۔

برطانیہ میں گزشتہ کئی روز سے احتجاج جاری ہے جس کے دوران مظاہرین نے ماضی میں غلاموں کی تجارت سے وابستہ شخصیات اور نو آبادیاتی دور کے رہنماؤں کے مجسموں کو نقصان پہنچایا ہے۔

نسلی امتیاز کے خلاف چلنے والی تحریک کے ذمہ داران اور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں ایسی تمام شخصیات کے مجسمے ہٹا دیے جانے چاہییں جو ماضی میں سیاہ فام اور دیگر نسلوں کے خلاف امتیازی سلوک میں ملوث رہے ہیں۔

مظاہرین اسے برطانیہ میں 'بلیک لائیوز میٹر' تحریک کا فیصلہ کن مرحلہ قرار دے رہے ہیں۔

مظاہرین نے حال ہی میں برطانیہ کے جنوب مغربی شہر برسٹل میں نصب سترہویں صدی میں غلاموں کے مشہور برطانوی تاجر ایڈورڈ کولسٹن کا مجسمہ گرا کر دریا برد کر دیا تھا۔

مظاہرین نے لندن کے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر نصب مجسمے کو بھی نقصان پہنچایا تھا اور اس پر 'چرچل واز اے ریسسٹ' یعنی چرچل نسل پرست تھا کے الفاظ تحریر کر دیے تھے۔

قدامت پسند سابق وزیرِ اعظم ونسٹن چرچل کو جنگِ عظیم دوم کے دوران ان کے قائدانہ کردار کی وجہ سے برطانیہ بھر میں ایک عظیم رہنما تصور کیا جاتا ہے۔

لیکن چرچل کے بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم نسل پرستانہ خیالات رکھتے تھے اور اسی وجہ سے بلیک لائیوز میٹر کی حالیہ تحریک کے دوران پارلیمنٹ اسکوائر سے ان کا مجسمہ ہٹانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

تاہم بورس جانسن نے اصرار کیا ہے کہ یہ مجسمہ اپنے مقام پر موجود رہنا چاہیے۔

سیاہ فام افراد سے اظہار یکجہتی کے لیے برطانیہ میں بھی احتجاج کیا جا رہا ہے۔
سیاہ فام افراد سے اظہار یکجہتی کے لیے برطانیہ میں بھی احتجاج کیا جا رہا ہے۔

برطانوی وزیرِ اعظم کا پیر کو ٹیلی گراف اخبار میں ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے لکھا کہ ہمیں ماضی کو دوبارہ تحریر کرنے کے بجائے اپنا حال سدھارنے کی ضرورت ہے۔

اُن کے بقول ہمیں اس نہ ختم ہونے والی بحث میں الجھنے کی ضرورت نہیں کہ کون سی تاریخی یا سیاسی شخصیات ایسی ہیں جن کے مجسموں کو برقرار رہنا چاہیے۔

لندن میں پارلیمنٹ اسکوائر کے سامنے ونسٹن چرچل کے مجسمے کی بے حرمتی کے بعد اتوار کو دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ وہاں جمع ہوئے تھے جن کا کہنا تھا کہ وہ چرچل کے مجسمے کی حفاظت کے لیے وہاں آئے ہیں۔

تاہم اپنے مضمون میں بورس جانسن نے ان افراد کو غنڈہ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ یہ سرا سر مضحکہ خیز ہے کہ چند غنڈے چرچل کے مجسمے کی حفاظت کا منصوبہ لے کر لندن میں جمع ہوئے تھے۔

نسلی امتیاز کے خلاف تحریک چلانے والوں کا کہنا ہے کہ غلامی کی علامت سمجھے جانے والے تمام تاریخی شخصیات کے مجسمے گرا دیے جائیں گے۔
نسلی امتیاز کے خلاف تحریک چلانے والوں کا کہنا ہے کہ غلامی کی علامت سمجھے جانے والے تمام تاریخی شخصیات کے مجسمے گرا دیے جائیں گے۔

اپنے مضمون میں بورس جانسن نے کہا کہ چرچل برطانیہ کے قومی ہیرو تھے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اپنی آخری سانس تک مجسمے کی حفاظت اور دفاع کرنے میں وہ اکیلے نہیں۔

یاد رہے کہ بطور صحافی بورس جانسن برطانیہ کے سابق وزیرِ اعظم ونسٹن چرچل کی سوانح بھی لکھ چکے ہیں۔

اپنے مضمون میں بورس جانسن نے برطانیہ میں کمیشن تشکیل دینے کا بھی اعلان کیا جو ان کے بقول ​برطانیہ میں عدم مساوات کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات مرتب کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ملازمت، صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں عدم مساوات کے خاتمے اور نسل پرستی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے اب بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG