رسائی کے لنکس

logo-print

بوسٹن بم حملہ کیس، انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں: ملزم کے وکلا


بوسٹن میراتھون بم حملہ آور، زوخار سارنیف کے وکلا کا کہنا ہے کہ اُن کی سزائے موت کو زیر غور نہیں لانا چاہیئے، چونکہ جج نے اُن کا مقدمہ شہر سے باہر چلائے جانے کی اجازت نہیں دی۔

ملزم کے وکلا کے بقول، جہاں بم دھماکہ ہوا تھا وہاں ملزم کو انصاف کی فراہمی ممکن نہیں تھی۔

جمعرات کے روز سارنیف کی قانونی ٹیم نے 500 صفحات کا ایک بریف ’فرسٹ یو ایس ڈسٹریکٹ کورٹ آف اپیلز‘ میں دائر کیا ہے۔

اس دستاویز میں اب 25 برس کے ملزم کے مقدمے سے منسلک دیگر مسائل کا ذکر کیا گیا ہے، جس مقدمے کی سماعت کا آغاز 2015ء میں ہوا تھا۔

دوسرت نکات جو ملزم کے وکلا نے پیش کیے ہیں اُن میں ججوں سے متعلق مسائل، زخمی افراد کی جانب سے شہادتیں؛ اور یہ کہ استغاثہ سارنیف کے بھائی کے ساتھ ملزم کے تعلق سے متعلق ججوں کو مطمئن نہیں کر پایا، جب کہ 2011ء کا معمہ حل نہیں ہوا، جس میں تین ہلاکتیں واقع ہوئی تھیں۔

وکلا کا کہنا ہے کہ وسیع تر میڈیا کوریج اور بوسٹن میں لوگوں کی بھیڑ، جو بم حملے کی زد میں آئی تھی، یہ وہ حقائق ہیں جو اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ مقدمے کی کارروائی کسی دوسرے مقام کی جانب منتقل کی جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG