رسائی کے لنکس

logo-print

بریگزٹ پر ڈیل یا نو ڈیل، برطانوی حکومت کے لیے ہنگامہ خیز ہفتہ


لندن میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر بریگزٹ کے حامیوں اور مخالفین کا مظاہرہ۔ 3 ستمبر 2019

برطانیہ اس ہفتے دھماکہ خیز سیاسی محاذ آرائیو ں کے ایک سلسلے کی طرف بڑھ رہا ہے جو یورپی یونین سے برطانیہ کی مجوزہ علیحدگی کے لئے انتہائی اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔

اراکین اسمبلی آج منگل کو موسم گرما کی تعطیلات سے واپس آ کر پارلیمنٹ کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ برطانیہ کی کسی معاہدے کے بغیر یورپی یونین سے علیحدگی کو روکا جا سکے۔

وزیر اعظم بورس جانسن کی جانب سے پارلیمنٹ کو غیر معینہ عرصے تک ملتوی یا معطل کرنے کے فیصلے کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت یہ محاذ آرائی صرف بریگزٹ کے بارے میں دکھائی نہیں دیتی بلکہ ایک ایسی سوسائٹی اور ملک کی ساخت کے بارے میں ہے جسے کسی زمانے میں دنیا کی ایک سب سے مضبوط جمہوریت کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔

لندن، مانچسٹر، برمنگھم اور برسٹل سمیت اختتام ہفتہ برطانیہ بھر سے ہزاروں افراد حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ کی معطلی کے فیصلے کے خلاف جو صرف ایک ہفتے کے بعد موثر ہو رہی ہے، احتجاج کے لیے قصبوں اور شہروں کی سڑکوں پر نکل آئے۔

یہ مظاہرے ایک ایسے ہفتے سے قبل ہو رہے ہیں جو امکانی طور پر بریگز ٹ کے لیے ایک فیصلہ کن ہفتہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک جانب حکومت 31 اکتوبر تک کسی معاہدے کے بغیر یورپی یونین سے الگ ہونے کے لیے تیار ہے تو دوسرف طرف اسے مخالفین کی جانب سے شٹ ڈاؤن کے خطرے کا سامنا ہے، جن کا خیال ہے کہ کسی معاہدے کے بغیر بریگزٹ تباہ کن ہو گا۔

لندن اسکول آف اکنامکس کے پولیٹیکل سائنس کے تجزیہ کار ٹونی ٹریورس کہتے ہیں کہ تمام جماعتوں کے اراکین اسمبلی کا ایک گروپ جس میں غالباً سینئر قدامت پسند شامل ہوں گے، ہاؤس آف کامنز کے معاملات کا کنٹرول حاصل کرنے کی خاطر اکٹھے ہونے اور پھر کسی معاہدے کے بغیر یورپی یونین سے علیحدگی کو روکنے کے لیے کوئی قانون منظور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس پر ہاؤس آف کامنز اور ہاؤس آف لارڈز کی رضامندی درکار ہو گی۔ لیکن انہیں گھمبیر مشکلات کا سامنا ہے۔

ٹونی ٹریورس کہتے ہیں کہ انہیں اس نئے اتحاد کو بر قرار رکھنا ہو گا، جو انتہائی بائیں بازو کی قیادت کے افراد اور سینٹر رائٹ کی قدامت پسند پارٹی کے کچھ لوگوں کے ساتھ قائم ہونے والا ایک غیر معمولی اتحاد ہو گا۔

وزیراعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ نو ڈیل کو مسدود کرنا یورپی یونین کے ہاتھوں میں کھیلنے کے مترادف ہو گا۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر ان کا خیال ہے کہ بریگزٹ کو کسی بھی طور روکا جا سکتا ہے تو وہ ہمیں ایسا معاہدہ پیش نہیں کریں گے جس کی ہمیں ضرورت ہے۔ اور اس لئے، مجھے تشویش یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے دراصل گفت و شنید کے لیے برطانیہ کی پوزیشن متاثر ہو سکتی ہے۔ لیکن ہم اس معاہدے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔

جانسن نے دھمکی دی ہے کہ نو ڈیل بریگزٹ کی کسی ووٹنگ کو روکنے کے لیے اگر ان کی پارٹی کے کسی قدامت پسند رکن پارلیمنٹ نے کوشش کی تو اسے اگلے انتخابات کے لیے نامزد نہیں کیا جائے گا۔ ایسا اس صورت میں بہت جلد ہو سکتا ہے اگر حزب اختلاف حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی ووٹنگ کرواتی ہے۔

کیلی یونیورسٹی کی سیاسی تجزیہ کار گیما لومیس کہتی ہیں کہ حکومت کے خاتمے کے فیصلے کے لیے صرف چند قدامت پسند اراکین اسمبلی کی ضرورت ہو گی، لیکن قدامت پسند اراکین اسمبلی کے لیے خود اپنی حکومت کے خلاف ووٹ دینے کا یہ ایک بالکل بے نظیر واقعہ ہو گا۔

اسی دوران حکومت کے خلاف عدالت میں کئی مقدمات دائر کیے جا چکے ہیں تاکہ پارلیمنٹ کی معطلی کا راستہ روکا جا سکے، جب کہ ان مقدمات کے فیصلے بھی اس ہفتے ہونے والے ہیں۔

بریگزٹ کی اس محاذ آرائی کی لپیٹ میں ملکہ ایلزبتھ بھی آ سکتی ہیں کیوں کہ ملک کی سربراہ کے طور پر انہوں نے ہی پارلیمنٹ کی معطلی کی اجازت دی تھی۔ بکنگھم پیلس سے عدالتوں اور ویسٹ منسٹر تک، برطانیہ کی جمہوریت کا امتحان لیا جا رہا ہے۔ اگلے پانچ دن اس فیصلے کے لیے انتہائی اہم ہوں گے کہ بریگزٹ کی اس دھماکہ خیز جنگ میں فاتح کے طور پر کون ابھر کر سامنے آئے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG