رسائی کے لنکس

logo-print

لندن: ری سائیکل پلاسٹک سے تیار کشتی دریائے ٹیمز کے سفر پر


ری سائکل پلاسٹک سے تیار کشتی

اس منصوبے کا مقصد لوگوں کو ری سائیکل کے لیے آگہی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اس ماحولیاتی مسئلے کا حل بھی تلاش کرنا ہے۔

آبی گزرگاہوں میں پڑی ہوئے پلاسٹک کی اشیا پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایک بڑا ماحولیاتی مسئلہ ہے۔

لندن میں ایک پروجیکٹ کے تحت اس ری سائیکل پلاسٹک کی مدد سے ایک کشتی بنائی گئی ہے جو اب انہی آبی گزرگاہوں میں چل رہی ہے جہاں پر یہ کچرا ماحولیات کی تباہی کا سبب بن رہا تھا۔

اس منصوبے کا مقصد لوگوں کو ری سائیکل کے لیے آگہی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اس ماحولیاتی مسئلے کا حل بھی تلاش کرنا ہے۔

برطانیہ میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے نے یہ ناؤ مکمل طور پر پلاسٹک کے کچرے سے بنائی ہے۔

اس ادارے کے ڈائریکٹر اور شریک بانی گیوین ایلس کہتے ہیں کہ بارہ نشتوں والی اس کشتی کا دریائے ٹیمز میں چلایا جانا ایک پیغام ہے۔

گیوین کا خیال ہے کہ جو کچھ انہوں نے کیا ہے وہ صرف دریائے ٹیمز کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک مستقل اور عالمی مسئلہ ہے جس کے حل کی انہوں نے صرف ایک مثال پیش کی ہے۔

ان کے بقول لوگ اپنا جو کچرا کچرے دان میں ڈالتے ہیں، وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ کچرا ابلتے ہوئے کچرے دان میں نہ جائے کیوں کہ وہ یہاں سے نکل کر کسی نہ کسی صورت میں کسی آبی ذخیرے تک بھی پہنچ سکتا ہے۔

جن لوگوں نے اس پروجیکٹ کے تحت تیار کردہ بوٹ کے دورے کی خواہش کا اظہار کیا ہے ان میں ریٹائرڈ برطانوی روور اور تین بار کے اولمپک گولڈ میڈلیسٹ اینڈریو ٹریگ ہوگ بھی شامل ہیں۔

ٹریگ ہوگ کا کہنا ہے کہ وہ دیکھ سکتے ہیں کہ دریا میں ممکنہ محفوظ ماحول سے بچے کس طرح لطف اندوز ہوتے ہیں۔

بوٹ بنانے والے مارک ایڈورڈ نے یہ کشی ایک ری سائیکل پلاسٹک مواد 'پلاسوڈ' سے بنائی ہے جو لکڑی جیسا ہے۔

مارک کے بقول انہیں یہ کشتی بنانے میں چھ ہفتے لگے۔ اسےباندھنے کے لیے روایتی تانبا استعمال کیا گیا۔ یہ سب کچھ محنت طلب تھا۔ لیکن اس کشتی کی سو سال سے زائد کی پائیداری کے اگے کچھ بھی نہیں ہے۔

ادارے کو توقع ہے کہ ان کا ری سائیکل فلوٹیلا برطانیہ کی تمام آبی گزرگاہوں کو صاف کردے گا اور ہر ایک کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنے گا کہ وہ اپنا فالتو پلاسٹک دریا میں گرانے سے باز رہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG