رسائی کے لنکس

logo-print

ایران پر برطانوی بحری جہاز روکنے کی کوشش کا الزام


آبنائے ہرمز سے ایک آئل ٹینکر گزر رہا ہے۔ (فائل فوٹو)

برطانیہ نے الزام لگایا ہے کہ ایرانی بحریہ کی تین کشتیوں نے آبنائے ہرمز میں اس کے ایک تیل بردار بحری جہاز کو روکنے کی کوشش کی ہے۔

برطانوی حکومت نے جمعرات کو جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ایرانی کشتیوں کی جانب سے بحری جہاز کا راستہ روکنے کی کوشش پر آبنائے ہرمز میں موجود برطانوی بحریہ کا ایک جنگی جہاز فوری حرکت میں آیا جس کی وارننگ پر ایرانی کشتیاں واپس چلی گئیں۔

بیان کے مطابق، ایرانی کشتیوں نے جس آئل ٹینکر کو روکنے کی کوشش کی وہ برطانوی کمپنی 'بی پی' کا تھا۔

ایرانی کشتیوں کی جانب سے برطانوی جہاز کا راستہ روکنے کی کوشش گزشتہ ہفتے کی جانے والی اس کارروائی کا ردِ عمل ہو سکتی ہے، جس کے دوران برطانوی حکام نے جبرالٹر کے نزدیک ایک ایرانی آئل ٹینکر اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔

برطانوی حکام نے کہا تھا کہ انہوں نے ایرانی آئل ٹینکر کے خلاف اس شبہے پر کارروائی کی تھی کہ وہ یورپی یونین کی جانب سے عائد اقتصادی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خام تیل مبینہ طور پر شام لے جا رہا تھا۔

ایران نے اپنے آئل ٹینکر کے خلاف برطانوی کارروائی پر سخت برہمی ظاہر کی تھی اور ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد بغیری نے دھمکی دی تھی کہ ایران اس کا سخت جواب دے گا۔

برطانیہ جنگی جہاز 'ایچ ایم ایس مونٹوروز' کی فائل تصویر جس نے برطانوی حکومت کے مطابق فوری کارروائی کی اور ایرانی کشتیوں کو پسپا ہونے پر مجبور کیا۔ (فائل فوٹو)
برطانیہ جنگی جہاز 'ایچ ایم ایس مونٹوروز' کی فائل تصویر جس نے برطانوی حکومت کے مطابق فوری کارروائی کی اور ایرانی کشتیوں کو پسپا ہونے پر مجبور کیا۔ (فائل فوٹو)

تاہم، ایرانی حکومت نے جمعرات کو برطانوی جہاز روکنے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ایسی کوئی کارروائی نہیں کی۔

ایران کے وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف نے برطانوی دعوے کو "بے سر و پہ" قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔

حالیہ واقعے سے خطے خصوصاً آبنائے ہرمز میں صورتِ حال کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے رواں سال مئی میں ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیاں دوبارہ عائد کیے جانے کے بعد سے خطے کی صورتِ حال سخت کشیدہ ہے۔

ایرانی حکام مسلسل دھمکیاں دیتے آئے ہیں کہ وہ امریکی اقدامات کے جواب میں آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی تجارت کے لیے بند کر دیں گے۔

آبنائے ہرمز ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے جو تیل پیدا کرنے والے عرب ملکوں کو ایشیا، یورپ، شمالی امریکہ اور باقی دنیا تک بحری راستے سے رسائی فراہم کرتی ہے۔

دنیا بھر میں ہونے والی خام تیل کی کل تجارت میں سے 20 فی صد آبنائے ہرمز کے راستے ہوتی ہے۔ یہ مقدار لگ بھگ 17 کروڑ 20 لاکھ بیرل روزانہ بنتی ہے۔

امریکہ کہہ چکا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں سفر کرنے والے بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے ایک کثیر الملکی فوجی اتحاد بنا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG