رسائی کے لنکس

logo-print

بونیر: گویائی اور سماعت سے محروم بچوں کا واحد اسکول بند


فائل فوٹو

خیبر پختونخوا حکومت کے محکمۂ سماجی بہبود کے مطابق بونیر میں 13 سال سے کم عمر تقریباً 1056 بچے قوتِ گویائی اور سماعت سے محروم ہیں۔

خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر میں سماعت و گویائی سے محروم بچوں کا واحد اسکول بند کردیا گیا ہے جس کے بعد اسکول میں زیرِ تعلیم بچوں کے والدین پریشان ہیں۔

خیبر پختونخوا حکومت کے محکمۂ سماجی بہبود کے مطابق بونیر میں 13 سال سے کم عمر تقریباً 1056 بچے قوتِ گویائی اور سماعت سے محروم ہیں، جن میں سے 52 بند ہونے والے اسکول میں زیرِ تعلیم تھے۔

اسکول 2016ء میں قائم کیا گیا تھا جسے رواں ماہ کے آغاز میں بغیر کوئی وجہ بتائے بند کردیا گیا ہے۔ متاثرہ بچوں کے والدین نے اسکول بحال نہ کرنے کی صورت میں احتجاج کی دھمکی بھی دی ہے۔

بونیر کے علاقے نواب پور سے تعلق رکھنے والے طالبِ علم سدیس خان کے والد محمد شاکر نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے بچے نے اس اسکول سے کافی کچھ سیکھ لیا تھا۔

ان کے بقول چوں کہ معذور بچوں کو پڑھانے کا طریقہ مختلف ہوتا ہے اور اساتذہ بھی اسی طرح ٹرینڈ ہوتے ہیں اور اشاروں کی زبان میں سکھاتے ہیں، اس لیے وہ اپنے بچے کو کہیں اور تعلیم نہیں دلا سکتے۔

محمد شاکر نے کہا کہ اب جب صبح باقی بہن بھائی اسکول جاتے ہیں تو سدیس بھی اسکول جانے کی ضد کرتا ہے اور ان کے بقول یہ ایک ایسا درد ہے جس کا وہ کوئی جواب نہیں دے سکتے۔

انہوں نے اسکول کی جلد از جلد بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسکول کے ساتھ طلبہ کو ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی فراہم کی جائے تاکہ دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے خصوصی بچے بھی اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔

ضلع بونیر کے ڈپٹی کمشنر شفیع اللہ سے وی او اے کو بتایا ہے کہ مذکورہ اسکول کو ختم نہیں کیا گیا بلکہ عارضی طور پر بند کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت اس اسکول کو پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر چلا رہی تھی اور اب فنانس ڈپارٹمنٹ اس کے لیے مستقل عملہ بھرتی کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جیسے ہی اسٹاف کی بھرتی مکمل ہو جائے گی، اسکول کو دوبارہ مستقل بنیادوں پر شروع کردیا جائے گا۔ لیکن انہوں نے اسکول دوبارہ کھولنے کے لیے کوئی ٹائم فریم دینے سے معذرت کی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG