رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا سے مرنے والوں کی تدفین، 'خوف تو ہے پر یہ کام بھی تو کرنا ہے'


فائل فوٹو

"کراچی میں 2015 میں گرمی کی شدید لہر (ہیٹ ویو) کے دوران تین روز میں سیکڑوں میتیں شہر کے قبرستانوں میں تدفین کے لیے لائی گئی تھیں۔ اس دوران صرف ہمارے قبرستان میں 15 گورکن مسلسل قبریں کھودنے اور مردے دفنانے میں لگے ہوئے تھے۔ لیکن جب تعداد بڑھنے لگی تو کھدائی کے لیے کرین کی مدد لی گئی تھی۔"

"وہ وقت خاصا مشکل تھا، لیکن گزر گیا۔ مگر اب جو کرونا کی وبا آئی ہے، اس وبا میں تدفین کرنے والے گورکن بھی خوف کا شکار ہیں۔" یہ کہنا ہے جاوید (فرضی نام) کا جو کراچی کے ایک قبرستان میں بطور گورکن کام کرتے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران کرونا وائرس سے جان کی بازی ہارنے والے چار افراد کی تدفین میں حصہ لیا ہے۔

دنیا بھر میں کرونا وائرس کے متاثرہ مریضوں اور اس وبا سے مرنے والوں کی تعداد لاکھوں تک جا پہنچی ہے۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ معالجین اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر مریضوں کے علاج میں مصروف ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی تلقین کرتے اور لاک ڈاؤن پر عمل در آمد کراتے نظر آ رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اب بھی کئی ایسے لوگ ہیں جو اس وبا کی سنگینی کو نہیں سمجھ پا رہے۔

اسپتالوں میں زیر علاج مریض یہ امید رکھ رہے ہیں کہ ایک بار وہ صحت یاب ہو جائیں تو مزید احتیاط کریں گے۔ تاکہ دوبارہ اس اذیت سے دوچار نہ ہونا پڑے۔

لیکن ان لوگوں کا کیا جو اس وبا سے جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ ستم تو یہ ہے کہ ان کے لواحقین اپنے پیاروں کی میتیں آخری آرام گاہ تک پہنچانے کے لیے بھی پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں۔

کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی نمازِ جنازہ میں بھی صرف چند افراد کو شریک ہونے کی اجازت ہے اور تدفین کے عمل میں تو لواحقین بھی حصہ نہیں لے سکتے۔

کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے شخص کا سفر آخرت کیسا ہوتا ہے؟ یہ سوال ہمیں کراچی کے اس قبرستان تک لے گیا جہاں حال ہی میں اس بیماری سے مرنے والے چار افراد کی تدفین کی گئی ہے۔

صبح نو بجے جب ہم قبرستان پہنچے تو وہاں سناٹا تھا۔ صرف قبروں پر پانی ڈالنے والے بچے پانی کے نلکوں کے پاس بیٹھے شرارتوں میں مشغول تھے۔

کچھ دور ہی گورکن شہرِ خموشاں کے کسی نئے مکین کی آمد کا بندوبست کرتے نظر آئے۔ مجھے معلوم ہوا کہ یہ نئی قبریں قبرستان کے وسط میں ہیں۔

کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے شخص کی نمازِ جنازہ میں چند افراد کو ہی شرکت کی اجازت ہے۔
کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے شخص کی نمازِ جنازہ میں چند افراد کو ہی شرکت کی اجازت ہے۔

ان قبروں کی طرف چلنا شروع کیا تو راستے میں بہت سی قبروں کی مختلف کہانیاں بھی معلوم ہوتی گئیں۔ کچھ دیر بعد میں ایک ایسی قبر کے قریب کھڑی تھی جسے دیکھ کر میں ایک لمحے کے لیے لرز سی گئی۔

وہاں تو قبر کے نام پر مٹی کا ڈھیر بھی نہیں تھا۔ بس ایک سپاٹ جگہ تھی جہاں سرہانے لگی اینٹ ہی یہ نشانی تھی کہ یہ قبر ہے۔

قبرستان کے گورکن جاوید سے گفتگو کا آغاز ہوا تو انہوں نے بتایا کہ یہ اس قبرستان میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے ایک شخص کی آخری آرام گاہ ہے۔ جب سے تدفین ہوئی ہے، ابھی تک ان کے گھر کا کوئی فرد قبر پر فاتحہ تک پڑھنے نہیں آیا۔ امید ہے کہ کرونا وائرس کے خاتمے کے بعد جب ان کے پیارے قبر دیکھنے آئیں گے تو ہم انہیں یہاں لے آئیں گے۔

ایک اور ایسے ہی شخص کی قبر نہ صرف پکی ہو چکی تھی بلکہ اس پر نام کا کتبہ بھی موجود تھا۔ قبر پر لواحقین کی طرف سے ڈالے گئے پھول سوکھ چکے تھے اور پھولوں کی پتیاں ہوا کے ساتھ اردگرد کی قبروں تک پہنچ رہی تھیں۔

جاوید کے مطابق کرونا وائرس سے متاثرہ اس شخص کی تدفین رات کے وقت ہوئی تھی جس میں کوئی بھی رشتہ دار شریک نہیں تھا۔ کیوں کہ ان کے گھر کے تمام افراد اس وقت کرونا وائرس میں مبتلا ہو کر آئسولیشن وارڈز میں ہیں۔

کرونا وائرس سے متاثرہ شخص کی تدفین میں صرف چار افراد شریک ہوتے ہیں۔
کرونا وائرس سے متاثرہ شخص کی تدفین میں صرف چار افراد شریک ہوتے ہیں۔

جاوید نے بتایا کہ تدفین کے تیسرے روز ان صاحب کی دو شادی شدہ بیٹیاں یہاں آئی تھیں۔ انہوں نے فاتحہ پڑھی اور قبر پکی کرانے کا کہہ کر چلی گئیں۔ یکم اپریل سے اب تک وہ روزانہ آتی ہیں، قبر کو دیکھ کر روتی ہیں اور دعا پڑھ کر چلی جاتی ہیں۔

کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تدفین کا عمل کس لحاظ سے مختلف ہے؟ اس حوالے سے جاوید نے بتایا کہ انہیں اس قبرستان میں کام کرتے ہوئے 18 سے 20 سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔

اُن کے بقول وہ لاتعداد میتوں کی تدفین دیکھ چکے ہیں جس میں وہ خود بھی شریک ہوتے رہے ہیں۔ لیکن ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ حکومت کی جانب سے کوئی سخت ہدایت نامہ آیا ہو اور تدفین کے لیے سخت احتیاطی تدابیر اختیار کرنا لازمی قرار دیا گیا ہو۔

جاوید کے مطابق عام طور پر کسی بھی شخص کی تدفین کے لیے ساڑھے تین سے چار فٹ گہری قبر کھودی جاتی ہے۔ پھر اس کے اطراف میں اینٹوں کا باکس بنا دیا جاتا ہے۔ اس باکس میں میت اتارنے کے بعد اوپر سے سلیب رکھے جاتے ہیں اور پھر اس پر مٹی ڈال دی جاتی ہے۔

لیکن کرونا وائرس سے متاثرہ شخص کی تدفین کے لیے قبر کی گہرائی ساڑھے سات فٹ رکھی جاتی ہے۔ اس قبر میں کسی قسم کا کوئی باکس نہیں بنایا جاتا۔ بلکہ میت کو ایک رسے کی مدد سے دو افراد اس قبر میں اتارتے ہیں اور پھر بغیر کوئی سلیب وغیرہ رکھے ہی اوپر سے مٹی ڈال دی جاتی ہے۔

کرونا وائرس سے متاثرہ شخص کی تدفین میں کل چار افراد شریک ہوتے ہیں اور قبر کے قریب صرف دو افراد کو جانے کی اجازت ہوتی ہے۔

تدفین سے قبل ضلعی انتظامیہ پہلے متعلقہ تھانے کو مطلع کرتی ہے اور تھانہ قبرستان کی انتظامیہ سے رابطہ کر کے انہیں تدفین کے انتظامات کا کہتا ہے۔

جاوید کے بقول قبرستان میں میت لانے سے قبل تمام داخلی اور خارجی راستوں پر پولیس اور رینجرز کا پہرہ لگا دیا جاتا ہے تاکہ اس دوران کوئی بھی شخص اندر نہ آ سکے۔

تدفین میں شریک عملے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے فراہم کردہ حفاظتی کٹس پہننا ضروری ہے جس میں ماسک، گلوز، لباس، اور جوتے وغیرہ شامل ہیں۔ یہ کٹس پہننے سے قبل اور بعد میں بھی جراثیم کش اسپرے کیا جاتا ہے اور پھر تدفین کی جاتی ہے۔

جاوید کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے اپنے گھر پر یہ بتایا کہ آج ان کے قبرستان میں کرونا کے مریض کی میت لائی جائے گی، تو ان کی والدہ نے انہیں قبرستان جانے سے منع کیا اور کہا کہ ان کے اپنے رشتہ دار خود تدفین کر لیں گے، تم مت جاؤ۔

ان کے بقول "میں نے والدہ کو بتایا کہ ان کے اپنے تدفین کے لیے آ سکتے تو ہماری ضرورت ہی کیا تھی۔ میت کی تدفین صدقہ جاریہ ہے۔"

ایسی میتوں کی تدفین جس میں کوئی شریک نہ ہو اور وبا کا خوف بھی ساتھ ہو، تو ایسے ماحول میں کام کرنا کتنا مشکل ہے؟ اس سوال کے جواب میں جاوید بولے کہ دل میں خوف تو بہت تھا۔

کرونا وائرس سے متاثرہ شخص کی میت قبرستان لانے سے قبل داخلی اور خارجی دروازوں پر پہرہ دیا جاتا ہے۔ (فائل فوٹو)
کرونا وائرس سے متاثرہ شخص کی میت قبرستان لانے سے قبل داخلی اور خارجی دروازوں پر پہرہ دیا جاتا ہے۔ (فائل فوٹو)

"ایک لمحہ ایسا آیا کہ کام کرنے کو جی نہیں کر رہا تھا۔ لیکن پھر دل کو سمجھایا اور کام کرنے کی ہمت کی۔ یہی سوچا کہ کیسا وقت آ گیا ہے کہ انسان، انسان سے دور بھاگ رہا ہے۔ کوئی اپنا بھی پاس نہیں۔ ڈر تھا کہ کہیں یہ بیماری ہمیں نہ لگ جائے۔"

جاوید کا مزید کہنا تھا کہ "مرنے والا بھی انسان ہے اور ہم بھی انسان ہیں۔ اپنے ڈر اور خوف کو ختم کر کے کام کیا اور کسی کو بھی ان کے پیاروں کی تدفین کے لیے منع نہیں کیا۔ دعا ہے کہ مزید لوگ اس وبا سے نہ مریں، قبرستان نہ بھریں۔ لیکن اگر کوئی بھی ایسی میت تدفین کے لیے آتی ہے، تو ہم ہی اسے دفنائیں گے۔"

قبرستان سے واپسی پر میں نے پھر سے وہ قبریں بغور دیکھیں۔ نجانے کیوں ان قبروں پر دیگر آرام گاہوں کی نسبت ویرانی نظر آئی۔ بس دعا پڑھی اور اپنی اگلی منزل کی جانب رواں دواں ہو گئی۔

نوٹ: اس فیچر میں انتظامیہ کی درخواست پر قبرستان کا نام ظاہر نہیں کیا گیا اور گورکن کا نام تبدیل کیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG