رسائی کے لنکس

مصر: قبطی گرجا گھر پر حملہ، کم از کم 9 افراد ہلاک


قاہرہ میں حلوان کے مضافاتی علاقے میں جمعے کے روز کم از کم دو حملہ آوروں نے قبطی گرجا گھر پر گولیاں چلائیں، جس سے ایک ہفتہ بعد مصر میں قدامت پسند مسیحی کرسمس کے جشن کا تہوار منائیں گے۔

پولیس نے بتایا ہے کہ ایک شدت پسند خودکش حملہ آور کو چرچ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا، جس کے جسم سے دھماکہ خیز مواد سے بھرا بیلٹ بندھا ہوا تھا، اور یوں اجتماع کو ایک مہلک تباہی سے بچا لیا گیا۔

ایک عام شہری کی بنائی گئی ایک وڈیو میں لوگوں کو محفوظ مقامات کے پیچھے چھپتے دیکھا جا سکتا ہے، ایسے میں جب مصر کی سلامتی افواج اور شدت پسند قاہرہ میں حلوان کے مضافات میں واقع مار منیٰ قبطی چرچ پر حملہ کیا۔ پولیس نے ایک حملہ آور کو ہلاک کردیا، جب کہ دوسرا پکڑا گیا۔

مصر کی وزارتِ صحت کے ترجمان خالد مجاہد نے عرب ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ تقریباً 9 افراد ہلاک ہوگئے ہیں، جن میں حملہ آور بھی شامل ہیں۔

اُنھوں نے بتایا کہ زخمیوں کو حلوان کے خطے کے متعدد مقامی اسپتالوں میں داخل کردیا گیا ہے، جہاں کچھ زخمیوں کی ہنگامی طور پر جراحی کی گئی۔

عرب میڈیا نے ایک وڈیو جاری کی ہے جس میں چرچ کے باہر شہری حملہ آوروں پر فائر کھولا، اور یوں مزید المناک حادثے سے بچا گیا۔

بتایا جاتا ہے کہ گرجا گھر کا دفاع کرتے ہوئے کئی پولیس والے اور شہری محافظ ہلاک ہوئے۔ سات جنوری کو قبطی مسیحیوں کی جانب سے کرسمس کے جشن کے موقعے سے قبل، مصر کی وزارتِ داخلہ نے ملک کے گرجا گھروں پر سکیورٹی سخت کر دی ہے۔

دہشت گردوں نے گذشتہ سال کے دوران مصر میں گرجا گھروں اور مساجد کے خلاف مہلک حملے تیز کر دیے تھے۔

’عمق‘ خبر رساں ادارے کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں داعش کے شدت پسندوں نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

چھان بین کرنے والوں نے بتایا ہے کہ اُنھوں نے مسلح شخص کو شناخت کرلیا ہے، اور اُن کا کہنا ہے کہ گزرنے والے سال کے دوران اُنھوں نے متعدد حملے کیے ہیں۔ اس سے قبل، مصر کے حکام نے کہا تھا کہ وہ ممکنہ دوسرے مسلح شخص کو تلاش کر رہے ہیں۔

مصر کے صدر عبدالفتح السیسی نے لواحقین کے ساتھ اظہار تعزیت کیا ہے اور سکیورٹی فورسز سے کہا ہے کہ ملک بھر میں تحفظ کی فراہمی کے اقدامات میں اضافہ کریں۔ سات جنوری کو قبطی قدامت پسند مسیحیوں کی جانب سے کرسمس کے جشن کو مد نظر رکھ کر پولیس نے پہلے ہی سکیورٹی بڑھا دی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG