رسائی کے لنکس

logo-print

کیلی فورنیا میں کاروبار دوبارہ بند کرنے کا فیصلہ


کیلی فورنیا میں کرونا وائرس کے کیسز میں تیزی کے بعد گورنر گیون نیوسم نے ریاست دوبارہ کھولنے کے منصوبے ملتوی کر دیے ہیں اور اعلان کیا ہے کہ وہ ریسٹورنٹس، شراب خانوں، کیسینوز، تھیٹرز اور چڑیا گھروں کو بند کرنے کے احکامات دے رہے ہیں۔

گورنر نے یہ بھی کہا کہ وہ وبا سے زیادہ متاثرہ کم از کم 30 کاؤنٹیز میں فٹنس مراکز، عبادت گاہوں، کم اہم دفاتر، بال کاٹنے کی دکانوں اور شاپنگ مالز کو بھی بند کر دیا جائے گا۔ ان کاؤنٹیز میں ریاست کی 80 فیصد آبادی رہتی ہے۔

کیلی فورنیا میں یومیہ اوسطاً 8 ہزار کیسز کی تصدیق ہو رہی ہے جو ایک ماہ پہلے کے مقابلے میں دگنا سے بھی زیادہ ہے۔ اب تک ریاست میں 3 لاکھ 30 ہزار مریض سامنے آ چکے ہیں جو نیویارک کے بعد ملک میں دوسری بڑی تعداد ہے جب کہ 7 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔

گورنر نیوسم نے کہا کہ ہم بعض تبدیلیوں کے ساتھ گھر پر رہنے کے اصلی حکم نامے کی طرف واپس جا رہے ہیں۔ یہ بیماری بدستور ہلاکت خیز ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ ریاستی حکام مسلسل بتا رہے ہیں کہ ریاست کھولنے کا اقدام ایک دم نہیں بلکہ سست روی سے ہو گا۔

کیلی فورنیا کی پڑوسی ریاست اوریگان کی گورنر کیٹ براؤ ن نے پیر کو کہا کہ وہ دس سے زیادہ افراد کی تقریبات پر پابندی لگا رہی ہیں جن میں سالگرہ، ڈںر پارٹی، بک کلب اور ایسی سرگرمیاں شامل ہوں گی۔ فی الحال کاروبار اور عبادت گاہوں پر پابندی نہیں لگائی جا رہی۔

گورنر نیوسم سے پہلے کیلی فورنیا کے دو سب سے بڑے اسکول ڈسٹرکٹس لاس اینجلس اور سان ڈیاگو نے کہا تھا کہ موسم خزاں میں نئے تعلیمی سال کے آغاز پر ساری پڑھائی آن لائن ہو گی کیونکہ ان کے علاقوں میں کرونا وائرس کے کیسز بڑھنے سے طلبا اور اساتذہ کو خطرات لاحق ہوں گے۔

ان دونوں علاقوں میں طلبا کی تعداد سوا 8 لاکھ ہے اور یہ ملک میں طلبا کو اسکول واپس نہ بلانے کا فیصلہ کرنے والے سب سے بڑے ڈسٹرکٹس ہیں۔ ملک میں اسکول اگست میں کھل رہے ہیں۔

کیلی فورنیا میں کرونا وائرس کے ایک تہائی کیسز لاس اینجلس کاؤنٹی میں ہیں جب کہ سان ڈیاگو کاؤنٹی میں گزشتہ ہفتے 18 کمیونٹیوں میں وبا پھیلی جو ریاست میں قابل قبول حد سے دگنا زیادہ ہے۔

دوسری جانب وزیر تعلیم بیٹسی ڈیووس بدستور ٹرمپ انتظامیہ کا یہ موقف ہر سطح پر پیش کر رہی ہیں کہ اسکولوں کو جلد دوبارہ کھولا جائے کیونکہ یہ نہ صرف طلبا کی سماجی اور جذباتی ضرورت ہے بلکہ اس وجہ سے ان کے والدین بھی کام پر واپس آ سکیں گے۔

صدر ٹرمپ اور وزیر تعلیم کی سفارشات پر صحت عامہ کے بہت سے حکام اور اساتذہ نے اعتراض کیا ہے۔ جمعہ کو امریکن اکیڈمی آف پیڈیئٹرکس، امریکن فاؤنڈیشن آف ٹیچرز، نیشنل ایجوکیشن ایسوسی ایشن اور اسکول سپرنٹینڈنٹس نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے، سیاست کی بنیادی پر نہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ اسکول کھولنے کا معاملہ ماہرین صحت پر چھوڑ دینا چاہیے اور اس بارے میں ماہرین تعلیم کی بات سننی چاہیے کہ یہ کام کیسے کیا جائے۔

لاس اینجلس اور سان ڈیاگو ڈسٹرکٹس کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اگرچہ وائرس کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہو چکا ہے لیکن تعلیمی اداروں کے لیے بہت سی سفارشات مبہم اور متضاد ہیں۔ صرف ایک بات واضح ہے کہ جن کاؤنٹیز نے اسکول محفوظ طریقے سے کھولے ہیں، ان کے ہاں کیسز کم تھے اور موقع پر ٹیسٹ کرنے کی سہولت دستیاب تھی۔ کیلی فورنیا میں ایسا نہیں ہے۔ گزشتہ چند ماہ میں کیسز کی تعداد میں انتہائی تیزی سے اضافے نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ وبا قابو میں نہیں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG