رسائی کے لنکس

logo-print

واشنگٹن ڈی سی: کچھ عجائب گھر تو کھل گئے لیکن سیاحت کی گہما گہمی کب لوٹے گی؟


کرونا وائرس کی وبا پر کنٹرول کے بعد فرانس نے اپنے عجائب گھر کھول دیے ہیں۔ آرٹ میوزیم میں ایک پیننٹنگ کے سامنے سیاحوں کا ہجوم۔ 6 جولائی 2020

موسم گرما واشنگٹن میں روایتی طور پر سیاحت کے عروج کا وقت ہے۔ چیری بلاسم کے رنگوں اور بہار کی سرمست ہواؤں سے شروع ہونے والا سیاحت کا سلسلہ سردیوں کے آغاز تک دارلحکومت کو دنیا اور ملک بھر کے لوگوں کے لیے ایک پرکشش مقام بنائے رکھتا ہے۔

لیکن اس سال کرونا وائرس کے باعث عائد کردہ بندشوں نے شہر کو تقرییاً تین ماہ کے لیے بندکیے رکھا۔ اور اب جب کہ شہر کو بتدریج کھولا جار رہا ہے، لوگ بے قرار ہیں کہ آخر دریائے پوٹامک پر واقع یہ شہر کب اپنی روایتی گہماگہمی اور رونقیں دوبارہ حاصل کر پائے گا۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال تقریباً تین کروڑ امریکی سیاح دارالحکومت میں سیر و تفریح کے لیے آئے اور انہوں نے یہاں 8 ارب سے زیادہ ڈالر خرچ کیے۔

اتنی بڑی تعداد میں سیاحوں کے واشنگٹن میں آنے سے بھرپور اقتصادی سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں جن کے نتیجہ میں 896 ملین ڈالر کے ٹیکس موصول ہوئے۔ اور سیر و سیاحت کی صنعت نے 78 ہزار کارکنوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے۔

اس وقت ڈی سی کو پھر سے کھولنے کا دوسرا مرحلہ جاری ہے۔ دوسرے مرحلہ میں ریستوران اور عجائب گھروں کو ہدایت کے مطابق اجازت ہے۔ ریستوران اور عجائب گھر دونوں ہی سیاحت کے حوالے سے اہم سمجھے جاتے ہیں۔

تاریخ اور تمدن کی داستانیں سناتے ہوئے واشنگٹن کے عجائب گھر خاص طور پر سیاحوں کے لیے دلچسب مقامات ہیں۔ اس کی ایک وجہ زیادہ تر عجائب گھروں میں بغیر ٹکٹ یا چارجز کے سیر کی سہولت ہے۔ لیکن ابھی تک صرف دو ہی عجائب گھر یعنی دی سپائی میوزیم اور میویم آف دی بائبل کھولے گیے ہیں۔ جب کہ سمتھ س نین کے 20 عجائب گھروں سمیت کئی مشہور میوزیم بند پڑے ہیں۔ اور زیادہ لوگوں نے ابھی سیر و تفریح کی طرف رخ بھی نہیں کیا۔ ایسے میں سپائی میوزیم نے سیر کے لیے آنے والے افراد کے تجربہ کو دلچسپ بنانے کے لیے نئےطریقے اپنائے ہیں۔

مثال کے طور پر سپائی میوزیم کی یوتھ ایجوکیشن ڈائریکٹر جیکی آئل نے واشنگٹن کے ڈبلیو اے ایم یو ریڈیو کو بتایا کہ ہر سیاح کو ایک مخصوص شناخت دی جاتی ہے اور یہ کہ کوویڈ 19 سے بچاؤ کے لیے چہرے پر پہنے جانے والے ماسک کو ہم محظوظ ہونے کی خاطر اپنے آپ کو چھپانے کا ایک انداز سمجھتے ہیں۔

عجائب گھروں کے علاوہ پرفارمنگ آرٹس کا بڑا مرکز کینیڈی سینٹر سردیوں تک بند رہے گا۔ ایسے میں لوگ صرف نیشنل مال کے کچھ حصوں کی سیر کر سکتے ہیں۔

جہاں تک ریستورانوں کا تعلق ہے تو دوسرے مرحلے میں سماجی ٖفاصلوں کی پابندی کرتے ہوئے بیٹھنے کے انتظام کے باوجود لوگ ایک محتاظ رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ پاکستانی امریکی قاضی منان جو سکینہ گرلز ریستوران کے مالک ہیں کہتے ہیں کہ ان کا کاروبار صرف کیری آوٹ پر یا باہر بیٹھے لوگوں کو کھانا پیش کرنے سے چل رہا یے اور بندشوں میں نرمی کے باوجود گاہکوں کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوا۔

ورجینیا میں مقیم پاکستانی امریکی مجتبی بھٹی جو سیاحت کے دلدادہ ہیں اور دنیا بھر میں کئی شہروں کی سیر کر چکے ہیں، کہتے ہیں کہ دریاے پوٹامک کے اس پار یعنی ورجینیا میں حالات تیزی سے بہتر ہو رہے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ڈی سی میں احتیاطی بندشوں پر عمل کرتے ہوئے واشنگٹن کے دوسرے مقامات کھولے جائیں تو اگلے دو ماہ میں حالات بہت حد تک بہتر ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق کیونکہ امریکہ میں کرونا وائرس کی پہلی لہر ہی ابھی جاری ہے، لوگ باہر نکلنے میں زیادۃ احتیاط اپنا رہے ہیں اور سیاحت اور زندگی کے دوسرے شعبوں میں تیزی اسی صورت میں آ سکتی ہے جب اس موزی مرض کی ویکسین دریافت ہو جائے جو کہ لوگوں کا اعتماد بحال کرے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG