رسائی کے لنکس

logo-print

برطانوی وزیر اعظم کا واشنگٹن کا پہلا دورہ


برطانوی وزیر اعظم کیمرون اپنے امریکہ کے پہلے دورے میں توقع ہے کہ مختلف واقعات کی بنا پر تنقید کا نشانہ بننے والی برٹش پٹرولیم کا دفاع کریں گے۔

خلیج میکسیکو میں تیل کے اخراج کے علاوہ،جس سے ماحولیات کے لیے بڑے پیمانے پر خطرات لاحق ہوئے، امریکی قانون ساز اس بات پر ناخوش ہیں کہ لاکربی دھماکے میں مبینہ طورپر ملوث اس شخص کی رہائی میں بھی اس برطانوی تیل کمپنی کا ہاتھ ہے جسے پچھلے سال انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر چھوڑ دیا گیاتھا۔

توقع ہے کہ مسٹر کیمرون اور صدر اوباما کے درمیان افغانستان کے مسئلے پر بھی گفتگو ہوگی۔ برطانوی وزیر اعظم 2015 ء تک افغانستان سے اپنے فوجی نکالنا چاہتے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں راہنماؤں کی اس پہلی سرکاری ملاقات میں بہت سے معاملات بات چیت کا موضوع بن سکتے ہیں۔

لندن میں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹرٹیجک اسٹڈیز کی ایک ماہر ڈینا ایلن کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط تعلقات موجود ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے اتحادی ہیں اور وہ افغانستان میں مشترکہ طورپر دشمن کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ دونوں ملک خفیہ معلومات کے تبادلے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ گہرا تعاون کررہے ہیں اور بہت سے عالمی معاملات پردونوں ایک جیسا نقطہ نظر رکھتے ہیں۔

صدر اوباما اور وزیر اعظم کیمرون کے درمیان اس پہلی سرکاری ملاقات میں متوقع طورپر زیر بحث آنے والے موضوعات میں برطانیہ کی بڑی تیل کمپنی برٹش پٹرولیم کا معاملہ بھی شامل ہے، جو خلیج میکسیکو میں کھدائی کے دوران حادثے کا شکار ہوجانے والے کنوئیں سے تیل کا اخراج فوری طورپر روکنے میں ناکام رہی تھی، جس سے لاکھوں گیلن خام تیل بہہ جانے کے باعث سمندری حیات اور ساحلی علاقوں کے کاروباروں کو بڑے پیمانے پر نقصان اٹھانا پڑاتھا۔

تیل کے اخراج کے علاوہ امریکی قانون ساز اس بارے میں بھی تحقیقات کے لیے زور دے رہے ہیں کہ آیا لاکربی کے بم دھماکے کے سزا یافتہ ملزم عبدلباسط علی المقرحی کی رہائی میں برٹش پٹرولیم کا کوئی ہاتھ ہے۔پچھلے سال اپنی رہائی کے بعد لیبیا میں اس کا ایک ہیرو کے طورپر استقبال کیا گیاتھا۔

امریکی قانون سازوں کاالزام ہے کہ برٹش پٹرولیم نے لیبیا کے ساتھ تیل کے ایک معاہدے کے بدلے میں المقرحی کی رہائی میں کردار ادا کیاتھا۔

دونوں عالمی راہنماؤں کے درمیان مذاکرات کے ایجنڈے پر افغانستان کا مسئلہ بھی موجود ہے۔ افغانستان میں 9000 برطانوی فوجی موجود ہیں ، جسے برطانیہ واپس بلانا چاہتا ہے۔ تجریہ کار ایلن کا کہنا ہے کہ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے لیکن دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط تعلقات موجود ہیں۔

ایلن کا کہنا ہے کہ مسٹر کیمرون اپنے واشنگٹن کے دورے سے وابستہ توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔تاہم برطانوی میڈیا اور کئی دوسرے تجزیہ کار وزیراعظم کیمرون کے واشنگٹن کے پہلے سرکاری دورے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG