رسائی کے لنکس

بھارت: گنگا جل سے کرونا کے علاج پر تحقیق کی درخواست مسترد


فائل فوٹو

بھارت میں طب پر تحقیق کرنے والے ایک ادارے انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) نے مودی حکومت کی آبی وسائل کی وزارت (جل شکتی) کی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اس بات کی تحقیق کی جائے کہ آیا دریائے گنگا کے پانی سے کرونا وائرس کا علاج ہو سکتا ہے۔

میڈیکل ریسرچ کونسل نے ایک ویب سائٹ 'دی پرنٹ' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چوں کہ وہ کرونا سے لڑنے پر اپنی توجہ مبذول کیے ہوئے ہے اس لیے وہ اس معاملے میں پڑنے اور تحقیق کرنے میں اپنا وقت برباد کرنا نہیں چاہتی۔

جل شکتی کی وزارت نے ایک غیر سرکاری تنظیم 'اتولیہ گنگا' کی مذکورہ تجویز کونسل کو پیش کی تھی۔ تنظیم نے اپنی اس درخواست کی کاپی آبی وسائل کی وزارت اور وزیرِ اعظم کے دفتر کو بھی ارسال کی تھی۔

دریائے گنگا کی بحالی پر کام کرنے والی وزارتِ جل شکتی سے منسلک مشن 'این ایم سی جی' کو لوگوں اور غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے تجاویز موصول ہوئی تھیں۔ جن میں کہا گیا تھا کہ دریائے گنگا کے پانی میں ایسے اجزا پائے جاتے ہیں جن سے کرونا وائرس کا شکار مریض شفایاب ہو سکتا ہے۔

بھارتی نشریاتی ادارے 'ٹائمز آف انڈیا' کے مطابق مذکورہ تجاویز 28 اپریل کو 'آئی سی ایم آر' کو بھجوائی گئی تھیں جنہیں ادارے نے رد کر دیا ہے۔

آئی سی ایم آر کے سربراہ ڈاکٹر وائے کے گپتا کا کہنا ہے کہ دریائے گنگا کے پانی کے بارے میں ابھی ایسے شواہد یا معلومات دستیاب نہیں ہیں جن کی بنیاد پر اس پانی سے کرونا کے علاج سے متعلق تحقیق شروع کرائی جا سکے۔

ڈاکٹر گپتا کا کہنا ہے کہ فی الوقت دی گئی تجاویز کے بارے میں سائنسی ڈیٹا اور مضبوط ثبوتوں کی ضرورت ہے۔

دوسری طرف 'این ایم سی جی' کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ان تجاویز پر سائنسی تحقیقی ادارے 'نیری' کے ان سائنس دانوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا جا چکا ہے جنہوں نے دریائے گنگا کے پانی میں پائی جانے والی خصوصیات سے متعلق تحقیق کی تھی۔

پیش کردہ تجاویز میں دعوی کیا گیا تھا کہ کرونا وائرس کا علاج دریائے گنگا کے پانی سے کیا جاسکتا ہے۔ (فائل فوٹو)
پیش کردہ تجاویز میں دعوی کیا گیا تھا کہ کرونا وائرس کا علاج دریائے گنگا کے پانی سے کیا جاسکتا ہے۔ (فائل فوٹو)

'نیری' کی اس تحقیق میں کہا گیا تھا کہ دریائے گنگا کے پانی میں بڑی تعداد میں ایسے بیکٹیریا پائے جاتے ہیں جو کہ 'پیتھوگینک بیکٹیریا' کے خلاف کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔

'این ایم سی جی' کو موصول ہونے والی تجاویز میں سے ایک میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دریائے گنگا کے پانی میں 'ننجا وائرس' پایا جاتا ہے جو موذی بیکٹیریا کے خلاف کار آمد ثابت ہو سکتا ہے۔

ایک اور تجویز میں دعویٰ کیا گیا کہ گنگا کے خالص پانی کے استعمال سے قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے جو کرونا وائرس کے مقابلے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

تیسری تجویز میں یہ بھی کہا گیا کہ دریائے گنگا کے پانی میں 'اینٹی وائرل' اجزات ہوتے ہیں جن کے استعمال سے بیماریوں کے خلاف لڑنے کے لیے درکار قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ بھارت میں کرونا وائرس کے 56 ہزار سے زائد مریض سامنے آ چکے ہیں جب کہ اس وبا سے اب تک 1800 سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG